مانسہرہ: بیل دوڑ مقابلہ جھگڑے میں تبدیل، فائرنگ سے نوجوان زخمی — پولیس اہلکار سمیت متعدد افراد نامزد.

29

مانسہرہ کے علاقے خیرآباد میں منعقدہ بیل دوڑ کے ایک مقامی مقابلے کے دوران معمولی تکرار شدت اختیار کرتے ہوئے پرتشدد جھگڑے میں بدل گئی، جس کے نتیجے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 4 مئی کی شام تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا، جب مقابلے میں شریک افراد کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق جھگڑے کے دوران فائرنگ کی گئی جس سے ایک نوجوان، سید فیضان شاہ، گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔
زخمی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد زخمی کے بھائی سید ساجد حسین شاہ کی مدعیت میں تھانہ گڑھی حبیب اللہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ دفعہ 324/34 کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں تھانہ صدر مانسہرہ کے محرر احسن شاہ، ان کے بھائی نقاش شاہ، ابن علی شاہ، شفقت شاہ اور دیگر سمیت مجموعی طور پر 12 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
ڈی پی او مانسہرہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پولیس اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو تمام شواہد کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔
مقامی ذرائع کے مطابق مدعی اور ملزمان کے درمیان پہلے سے بھی دشمنی چلی آ رہی تھی، جس کی بنیاد پر یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔
عوامی ردعمل اور سیکیورٹی خدشات
مقامی شہریوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بیل دوڑ جیسے عوامی مقابلوں میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔
قانونی پہلو اور جانوروں کے حقوق
اس واقعے نے بیل دوڑ جیسے مقابلوں میں جانوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے مقابلوں کو جانوروں پر ظلم کی روک تھام ایکٹ 1890 (ترمیم 2018) کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔
2018 کی ترامیم کے تحت جانوروں پر تشدد اور بدسلوکی کے خلاف جرمانوں اور سزاؤں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے جہاں معمولی جرمانے مؤثر ثابت نہیں ہو رہے تھے، وہیں اب جرمانوں کی حد بڑھا کر کم از کم 10 ہزار سے 50 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ 1 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے، تاکہ جانوروں کے حقوق کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مقابلوں کے لیے واضح ضوابط بنائے جائیں اور جانوروں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں