اسلام آباد (MansehraDotCom):
ایران کے جوہری پروگرام اور تنصیبات پر مبینہ تازہ امریکی فضائی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ روس نے ان حملوں کو عالمی امن کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں یکطرفہ فوجی کارروائیوں کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ماسکو نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں سے گزشتہ ماہ ہونے والی سفارتی پیش رفت اور امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
امریکی حملے، ایرانی ردعمل اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی شہری جوہری تنصیبات اور زیر تعمیر ایٹمی مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد تہران نے مبینہ طور پر امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ کا سخت مؤقف
روسی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر دوبارہ امریکی حملے سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں اور اس سے جوہری تنازع کے پرامن حل کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس قسم کی کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطے کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
ماسکو نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ ایٹمی تنصیبات پر حملے پورے خطے کو سنگین تباہی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
روس اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کا حالیہ مؤقف تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ممالک اربوں ڈالر مالیت کے جوہری اور توانائی منصوبوں پر تعاون کر رہے ہیں، جبکہ موجودہ بحران کے باعث خطے میں ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اگر سفارتی کوششیں بحال نہ ہو سکیں تو یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے عالمی سیاست، توانائی کی منڈی اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
امریکی حملوں پر روس کا بڑا اعلان، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے.
17