عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ اور سفارتی پیش رفت کو قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 9 فیصد سے زائد کمی کے بعد 87.59 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ یہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بڑی تبدیلی ہے، جب خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں کمی اس وقت سامنے آئی جب اقوامِ متحدہ میں امریکا کے سفیر نے بتایا کہ ایران پر حملے مسلسل دوسرے روز بھی روک دیے گئے ہیں تاکہ مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کی جا سکے۔
دوسری جانب ایران کی فوج کے ایک ترجمان نے بھی کہا کہ تہران نے خطے میں اپنی جوابی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں کشیدگی میں کمی کا تاثر پیدا ہوا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔