سعودی عرب کا تعلیمی نصاب میں بڑی اصلاحات کا اعلان.

6

درسی کتب سے یہودیوں اور دیگر مذاہب کے خلاف متنازع مواد اور احادیث کے حوالے نکال دیے گئے
ریاض (ویب ڈیسک) – سعودی عرب نے اپنے تعلیمی نصاب میں وسیع تر اصلاحات کے تحت درسی کتب سے ایسے کئی مواد اور احادیث کے حوالے نکال دیے ہیں جن میں یہودیوں اور دیگر مذاہب سے متعلق سخت یا منفی باتیں موجود تھیں۔
یہ اقدام ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ملک میں اعتدال پسند اسلام اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینے کی کوششوں کا ایک حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
نصابی اصلاحات کا مقصد
سعودی وزارت تعلیم کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد طلبہ و طالبات کو ایک متوازن اور روادارانہ تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں کے ساتھ احترام اور برداشت کے ساتھ پیش آ سکیں۔
نئے نصاب میں نفرت انگیز مواد کو ختم کر کے تعلیمی کتب کو جدید تقاضوں اور عالمی امن کے فروغ کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
عالمی ردعمل
اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے سعودی عرب کی اس کوشش کو بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، تاہم سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات ملک کے مستقبل اور نوجوان نسل کی بہترین تعلیم کے لیے ناگزیر ہیں۔
شاعری میں تلخ تبصرہ
اس خبر پر سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں بعض صارفین نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اشعار شیئر کیے ہیں:
“شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں”
یہ اشعار اس تبدیلی کو اسلامی اقدار کے زوال کے طور پر دیکھنے والے حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ حکومتی حلقے اسے جدید دور کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
مزید تفصیلات جاری
سعودی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ یہ اصلاحات مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی اور آنے والے تعلیمی سال سے نئے نصاب کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں