بریکنگ نیوز
ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کا مقدمہ، مرکزی ملزم بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک
21-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
ملتان / بہاولپور: ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کا مرکزی ملزم توقیر نذیر بدھ کی صبح بہاولپور میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
کام چھوڑ کر جانے والے بچے کا تعاقب، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
پولیس کے مطابق وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی اور ایک فلاحی ادارے کے زیرِ انتظام یتیم خانے میں مقیم تھا۔ اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے مبینہ طور پر تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں پیش آیا، جہاں کام چھوڑ کر جانے پر بچے کا مبینہ طور پر تعاقب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچہ گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتا دکھائی دیتا ہے، تاہم گاڑی اس سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے واقعے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچے کے خلاف چوری کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا ہے۔
عدالت سے جسمانی ریمانڈ، پھر حراست سے فرار کی اطلاع
پولیس نے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں سے اسے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ملزم حراست سے فرار ہو گیا ہے۔
بہاولپور میں مبینہ مقابلہ، مرکزی ملزم ہلاک
سی سی ڈی حکام کے مطابق بہاولپور کے نادرن بائی پاس کے قریب پولیس ٹیم نے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں توقیر نذیر اپنے ہی ساتھی کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرا شخص فرار ہو گیا۔
تاحال حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ملزم پولیس حراست سے کیسے فرار ہوا اور بہاولپور کیسے پہنچا۔ ان امور پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔
بچے کے اہلِ خانہ اور حقوقِ اطفال کے حلقوں کا مطالبہ
وسیم عباس کی ہلاکت کے واقعے پر شہریوں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور مکمل تحقیقات، شفاف قانونی کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش بھی جاری ہے۔ واقعے اور مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے پر کیس کی صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔
کام چھوڑ کر جانے والے بچے کا تعاقب، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
پولیس کے مطابق وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی اور ایک فلاحی ادارے کے زیرِ انتظام یتیم خانے میں مقیم تھا۔ اسے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے مبینہ طور پر تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی رائل آرچرڈ میں پیش آیا، جہاں کام چھوڑ کر جانے پر بچے کا مبینہ طور پر تعاقب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچہ گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتا دکھائی دیتا ہے، تاہم گاڑی اس سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے واقعے کے بعد قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچے کے خلاف چوری کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا ہے۔
عدالت سے جسمانی ریمانڈ، پھر حراست سے فرار کی اطلاع
پولیس نے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں سے اسے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ملزم حراست سے فرار ہو گیا ہے۔
بہاولپور میں مبینہ مقابلہ، مرکزی ملزم ہلاک
سی سی ڈی حکام کے مطابق بہاولپور کے نادرن بائی پاس کے قریب پولیس ٹیم نے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں توقیر نذیر اپنے ہی ساتھی کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرا شخص فرار ہو گیا۔
تاحال حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ملزم پولیس حراست سے کیسے فرار ہوا اور بہاولپور کیسے پہنچا۔ ان امور پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔
بچے کے اہلِ خانہ اور حقوقِ اطفال کے حلقوں کا مطالبہ
وسیم عباس کی ہلاکت کے واقعے پر شہریوں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور مکمل تحقیقات، شفاف قانونی کارروائی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش بھی جاری ہے۔ واقعے اور مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے پر کیس کی صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں