مانسہرہ ڈاٹ کام مانسہرہ ڈاٹ کام
3 جمادی الاول 1448 ہجری · جمعرات، 15 اکتوبر 2026
آج کی حدیث
ضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔“ حوالہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 5027
اپنی خبر بھیجیں
تازہ ترین
پشاور میں افسوسناک سانحہ: اسکول کی چھت گرنے سے 21 بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق، 40 سے زائد زخمی • گوجرانوالہ: 119 کنال قیمتی اراضی کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ، پی ٹی آئی رکن اسمبلی اور بیٹوں سمیت متعدد افراد نامزد • ڈی پی او مانسہرہ محمد وقاص خان کا بڑا اقدام، ضلع بھر میں پولیس کا پیدل گشت بحال • طالبہ لائبہ کیس میں اہم پیش رفت، ملزم نعمان سے 21 لاکھ روپے برآمد، مانسہرہ پولیس کے حوالے کیے جانے کا امکان • ڈیرہ اسماعیل خان میں والی بال میچ کے بعد خونریز تصادم، دو گروپوں کی فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی • خیبرپختونخوا میں جعلی رجسٹریشن اور غیرقانونی بھرتیوں کا معاملہ، 30 ڈاکٹر ملازمت سے برطرف • اسلام آباد: خاتون کو قتل کی دھمکیاں دینے کے الزام میں نوجوان گرفتار، سائبر کرائم ایجنسی نے مقدمہ درج کر لیا • لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 تک جا پہنچا • پشاور میں افسوسناک سانحہ: اسکول کی چھت گرنے سے 21 بچوں سمیت 22 افراد جاں بحق، 40 سے زائد زخمی • گوجرانوالہ: 119 کنال قیمتی اراضی کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ، پی ٹی آئی رکن اسمبلی اور بیٹوں سمیت متعدد افراد نامزد • ڈی پی او مانسہرہ محمد وقاص خان کا بڑا اقدام، ضلع بھر میں پولیس کا پیدل گشت بحال • طالبہ لائبہ کیس میں اہم پیش رفت، ملزم نعمان سے 21 لاکھ روپے برآمد، مانسہرہ پولیس کے حوالے کیے جانے کا امکان • ڈیرہ اسماعیل خان میں والی بال میچ کے بعد خونریز تصادم، دو گروپوں کی فائرنگ سے 5 افراد جاں بحق، 4 زخمی • خیبرپختونخوا میں جعلی رجسٹریشن اور غیرقانونی بھرتیوں کا معاملہ، 30 ڈاکٹر ملازمت سے برطرف • اسلام آباد: خاتون کو قتل کی دھمکیاں دینے کے الزام میں نوجوان گرفتار، سائبر کرائم ایجنسی نے مقدمہ درج کر لیا • لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 تک جا پہنچا •
کالمز

ڈبل بیرل خان — حامد میر کے کالم کا تفصیلی خلاصہ اور تاریخی پس منظر

15-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 35 وزٹ
Read in English
حامد میر کے کالم „ڈبل بیرل خان“ کا بنیادی موضوع سانحۂ بابڑہ 1948ء اور خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کے درمیان موازنہ ہے۔ مصنف ماضی کے ایک اہم تاریخی واقعے کو بنیاد بنا کر یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال، اختلافِ رائے کو دبانا اور مخالفین کو غدار قرار دینا جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
کالم کے مطابق، 12 اگست 1948ء کو چارسدہ کے قریب بابڑہ کے مقام پر خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، کی خدائی خدمت گار تحریک نے ایک جلسے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت صوبہ سرحد، جو آج خیبر پختونخوا کہلاتا ہے، کے وزیراعلیٰ خان عبدالقیوم خان کی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی۔ جلسے کے انعقاد کے دوران پولیس کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جسے تاریخ میں سانحۂ بابڑہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حامد میر لکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد 25 بتائی، جبکہ عینی شاہدین سے منسوب دعووں میں یہ تعداد سینکڑوں میں بیان کی گئی۔ تاہم، ہلاکتوں کی اصل تعداد کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔
مصنف کے مطابق، سانحۂ بابڑہ کے بعد خان عبدالقیوم خان کو „ڈبل بیرل خان“ کا لقب دیا گیا۔ کالم میں ان سے منسوب ایک سخت بیان بھی نقل کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے مظاہرین پر فائرنگ کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔ حامد میر اس واقعے کو ریاستی طاقت کے استعمال اور سیاسی مخالفین کے ساتھ سخت رویے کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
کالم میں خان عبدالقیوم خان کی سیاسی زندگی کا پس منظر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق، انہوں نے 1937ء کے انتخابات کانگریس کے ٹکٹ پر لڑے اور بعد میں مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1946ء کے انتخابات میں صوبہ سرحد میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی اور ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت قائم ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے موقع پر صوبے میں ریفرنڈم منعقد ہوا، جس میں ڈالے گئے ووٹوں کی بڑی اکثریت پاکستان کے حق میں آئی۔ کانگریس اور خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ حلقوں نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا، اس لیے اس نتیجے کو صوبے کے تمام باشندوں کی متفقہ رائے قرار نہیں دیا جاسکتا۔
قیامِ پاکستان کے بعد صوبہ سرحد میں سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔ کالم کے مطابق، 22 اگست 1947ء کو ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت برطرف کردی گئی اور خان عبدالقیوم خان نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس کے بعد باچا خان اور ان کے ساتھیوں پر افغانستان سے روابط اور ملک دشمنی جیسے الزامات عائد کیے گئے۔ حامد میر کے نزدیک، اس دور میں سیاسی اختلافات کو قومی وفاداری کے مسئلے میں تبدیل کرنے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کا ایک المناک اظہار سانحۂ بابڑہ کی صورت میں سامنے آیا۔
کالم کا دوسرا اہم حصہ اکتوبر 2026ء میں خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتِ حال سے متعلق ہے۔ حامد میر دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں بھی سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے، جلسوں اور جلوسوں پر پابندیاں لگانے اور احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ وہ خیبر کے علاقے باڑہ میں مظاہرین پر پولیس کی مبینہ براہِ راست فائرنگ کا ذکر کرتے ہوئے اسے سانحۂ بابڑہ کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اسی طرح وہ صوبائی حکومت، منتخب نمائندوں کی حراست، گورنر راج اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے سیاسی بیانات کو موجودہ کشیدگی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ ان واقعات اور دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دیگر معتبر ذرائع کی جانچ ضروری ہے۔
حامد میر کے نزدیک 1948ء اور 2026ء کے حالات میں فرق ضرور ہے، لیکن دونوں ادوار کے درمیان ایک اہم مماثلت یہ ہے کہ سیاسی اختلافات سے نمٹنے کے لیے ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ سیاسی مخالفین کو دبانے یا ان پر غداری کے الزامات لگانے کے بجائے آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کیے جانے چاہییں۔
کالم کے اختتام پر مصنف موجودہ اربابِ اختیار کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر وہ سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کے استعمال اور اختلافِ رائے کو دبانے کی روش اختیار کریں گے تو تاریخ انہیں بھی اسی تناظر میں یاد رکھ سکتی ہے۔ „ڈبل بیرل خان ثانی“ کی اصطلاح اسی تنبیہ کے طور پر استعمال کی گئی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حامد میر اپنے کالم میں سانحۂ بابڑہ کو ایک تاریخی سبق کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اقتدار عارضی ہوتا ہے، لیکن حکمرانوں کے فیصلے اور ان کے نتائج تاریخ میں محفوظ رہتے ہیں۔ سیاسی اختلاف کو طاقت سے ختم کرنے کے بجائے مکالمے، قانون کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے ذریعے حل کرنا ہی ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ خلاصہ فراہم کردہ کالم کے متن پر مبنی ہے؛ اس میں بیان کردہ تاریخی تفصیلات اور موجودہ سیاسی دعوؤں کی الگ سے تصدیق نہیں کی گئی۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔