ہزارہ
پشاور: نیب نے صحت کارڈ پلس کے سابق سی ای او ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو 29 اکتوبر کو طلب کر لیا
20-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
40 وزٹ
Read in English
پشاور – قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ پلس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو سرکاری فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں 29 اکتوبر 2026 کو طلب کر لیا ہے۔
نیب کا نوٹس
نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹس میں ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہیں حیات آباد، پشاور میں واقع نیب دفاتر میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (CIT) کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروانا ہوگا۔
فنڈز کی تفصیلات
نیب کے مطابق جاری تحقیقات میں درج ذیل فنڈز کے استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے:
· مالی سال 2023-24ء: صحت کارڈ پلس کے لیے جاری کیے گئے 12 ارب روپے
· جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء: جاری کیے گئے 9 ارب روپے
ان دونوں ادوار میں جاری کیے گئے فنڈز کی مجموعی مالیت 21 ارب روپے بنتی ہے۔
مبینہ بے ضابطگیاں
مالی سال 2023-24ء کے 12 ارب روپے:
· غیر حساب شدہ اخراجات
· غیر مصدقہ کلیمز
· مشکوک ادائیگیاں
جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء کے 9 ارب روپے:
· جعلی یا ڈپلیکیٹ صحت کارڈز کا اجراء
· وینڈرز کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیاں
· مختلف ہسپتالوں کے غیر مصدقہ کلیمز
ہدایات
نیب حکام نے ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیشی کے موقع پر درج ذیل دستاویزات بھی ساتھ لائیں:
· متعلقہ بینک اسٹیٹمنٹس
· آڈٹ رپورٹس
· سرکاری معاہدے
· اپنے ذاتی اثاثوں کی مکمل تفصیلات
اہم نوٹ
مذکورہ بالا معلومات نیب کے نوٹس پر مبنی ہیں۔ تحقیقات کے حتمی نتائج اور قانونی ذمہ داری کا تعین مکمل تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہے۔
نیب کا نوٹس
نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹس میں ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہیں حیات آباد، پشاور میں واقع نیب دفاتر میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (CIT) کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروانا ہوگا۔
فنڈز کی تفصیلات
نیب کے مطابق جاری تحقیقات میں درج ذیل فنڈز کے استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے:
· مالی سال 2023-24ء: صحت کارڈ پلس کے لیے جاری کیے گئے 12 ارب روپے
· جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء: جاری کیے گئے 9 ارب روپے
ان دونوں ادوار میں جاری کیے گئے فنڈز کی مجموعی مالیت 21 ارب روپے بنتی ہے۔
مبینہ بے ضابطگیاں
مالی سال 2023-24ء کے 12 ارب روپے:
· غیر حساب شدہ اخراجات
· غیر مصدقہ کلیمز
· مشکوک ادائیگیاں
جولائی 2025ء سے جولائی 2026ء کے 9 ارب روپے:
· جعلی یا ڈپلیکیٹ صحت کارڈز کا اجراء
· وینڈرز کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیاں
· مختلف ہسپتالوں کے غیر مصدقہ کلیمز
ہدایات
نیب حکام نے ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیشی کے موقع پر درج ذیل دستاویزات بھی ساتھ لائیں:
· متعلقہ بینک اسٹیٹمنٹس
· آڈٹ رپورٹس
· سرکاری معاہدے
· اپنے ذاتی اثاثوں کی مکمل تفصیلات
اہم نوٹ
مذکورہ بالا معلومات نیب کے نوٹس پر مبنی ہیں۔ تحقیقات کے حتمی نتائج اور قانونی ذمہ داری کا تعین مکمل تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں