پاکستان
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ سیاہ دن ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
15-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
29 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: ایوانِ بالا (سینیٹ) میں قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات محض ایک ڈھونگ تھے اور حکومت نے پہلے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ مذاکرات کا عمل سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھایا گیا، بلکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی۔
انہوں نے مذاکراتی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات محض دکھاوا تھے۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ تاہم، ان الزامات کے حوالے سے حکومتی مؤقف دستیاب بیان میں شامل نہیں ہے۔
سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ مذاکرات کا عمل سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھایا گیا، بلکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی۔
انہوں نے مذاکراتی عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات محض دکھاوا تھے۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ تاہم، ان الزامات کے حوالے سے حکومتی مؤقف دستیاب بیان میں شامل نہیں ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں