پولیس
🚨 راولپنڈی میں 12 سالہ بچی کے قتل کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک، بچی کی لاش خالو کے گھر سے ملی تھی
13-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
23 وزٹ
Read in English
راولپنڈی: راولپنڈی کے علاقے ڈھوک نجو میں 12 سالہ بچی کے مبینہ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم ممریز عباسی سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم مقتولہ کا خالو تھا اور واقعے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔
سی سی ڈی کا مقابلے سے متعلق دعویٰ
سی سی ڈی حکام کے مطابق، عالم آباد چلڈرن پارک کے قریب پولیس ٹیم کا تین ملزمان سے سامنا ہوا، جنہوں نے مبینہ طور پر اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ممریز عباسی ہلاک ہو گیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق، ہلاک ہونے والے ملزم پر 12 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور مقابلے کے حالات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔
مقتولہ کی لاش 8 اکتوبر کو برآمد ہوئی
پولیس کے مطابق، 12 سالہ بچی کی لاش 8 اکتوبر کو ملزم کے گھر سے برآمد ہوئی تھی۔ لاش ملنے کے بعد واقعے کی تفتیش شروع کی گئی اور مشتبہ ملزم کی تلاش کے لیے کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
حکام کے مطابق، ممریز عباسی کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔ اسے مقتولہ کا خالو بتایا گیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد اس کے فرار ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
تفتیش اور قانونی کارروائی
بچی کی ہلاکت کے واقعے نے کم عمر بچوں کے تحفظ اور سنگین جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے مقدمات میں شواہد کا تحفظ، فرانزک تحقیقات اور واقعات کی غیر جانب دارانہ چھان بین بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سی سی ڈی حکام کی جانب سے پولیس مقابلے کے بارے میں بیان سامنے آیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات، فائرنگ کے تبادلے کے حالات اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار سے متعلق مزید معلومات درکار ہیں۔
اہم وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور پولیس کے دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف الزامات، پولیس مقابلے کے حالات اور دیگر حقائق کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ حتمی قانونی نتائج متعلقہ تحقیقات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں طے ہوں گے۔
سی سی ڈی کا مقابلے سے متعلق دعویٰ
سی سی ڈی حکام کے مطابق، عالم آباد چلڈرن پارک کے قریب پولیس ٹیم کا تین ملزمان سے سامنا ہوا، جنہوں نے مبینہ طور پر اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ممریز عباسی ہلاک ہو گیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق، ہلاک ہونے والے ملزم پر 12 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور مقابلے کے حالات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔
مقتولہ کی لاش 8 اکتوبر کو برآمد ہوئی
پولیس کے مطابق، 12 سالہ بچی کی لاش 8 اکتوبر کو ملزم کے گھر سے برآمد ہوئی تھی۔ لاش ملنے کے بعد واقعے کی تفتیش شروع کی گئی اور مشتبہ ملزم کی تلاش کے لیے کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
حکام کے مطابق، ممریز عباسی کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔ اسے مقتولہ کا خالو بتایا گیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد اس کے فرار ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
تفتیش اور قانونی کارروائی
بچی کی ہلاکت کے واقعے نے کم عمر بچوں کے تحفظ اور سنگین جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے مقدمات میں شواہد کا تحفظ، فرانزک تحقیقات اور واقعات کی غیر جانب دارانہ چھان بین بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
سی سی ڈی حکام کی جانب سے پولیس مقابلے کے بارے میں بیان سامنے آیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات، فائرنگ کے تبادلے کے حالات اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار سے متعلق مزید معلومات درکار ہیں۔
اہم وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور پولیس کے دعووں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف الزامات، پولیس مقابلے کے حالات اور دیگر حقائق کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ حتمی قانونی نتائج متعلقہ تحقیقات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں طے ہوں گے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں