اسکول
پشاور اسکول چھت حادثہ: بچوں اور ٹیچر کی اموات پر پشاور ہائیکورٹ کا نوٹس، 21 اکتوبر کو سماعت مقرر
17-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
33 وزٹ
Read in English
پشاور — 17 اکتوبر 2026: پشاور ہائیکورٹ نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے سے متعلق دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 21 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ درخواست میں واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرنے، مبینہ غفلت کی تحقیقات اور تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA)، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) اور متعلقہ اسکول انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، تاکہ حادثے کے اسباب، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور ممکنہ انتظامی غفلت کا تعین کیا جا سکے۔
حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کی جان و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والے اسکولوں کی فوری جانچ پڑتال کی جائے اور جو ادارے مقررہ معیار کے مطابق محفوظ نہ ہوں، انہیں ضروری اصلاحات تک بند کرنے یا ان کے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
حادثے میں ایک ٹیچر اور 34 بچے جاں بحق
واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک حادثے میں ایک ٹیچر اور 34 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مضبوطی، تعمیراتی معیار، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
21 اکتوبر کی سماعت اہم قرار
پشاور ہائیکورٹ میں 21 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار کے مؤقف اور پیش کردہ استدعا کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مقدمے میں عدالتی کارروائی سے یہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ واقعے کی تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور دیگر تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات کے لیے کون سے قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
نوٹ: ذمہ داروں کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (PDA)، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) اور متعلقہ اسکول انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے، تاکہ حادثے کے اسباب، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور ممکنہ انتظامی غفلت کا تعین کیا جا سکے۔
حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کی جان و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والے اسکولوں کی فوری جانچ پڑتال کی جائے اور جو ادارے مقررہ معیار کے مطابق محفوظ نہ ہوں، انہیں ضروری اصلاحات تک بند کرنے یا ان کے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
حادثے میں ایک ٹیچر اور 34 بچے جاں بحق
واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ دو روز قبل پیش آیا تھا۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک حادثے میں ایک ٹیچر اور 34 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مضبوطی، تعمیراتی معیار، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
21 اکتوبر کی سماعت اہم قرار
پشاور ہائیکورٹ میں 21 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار کے مؤقف اور پیش کردہ استدعا کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مقدمے میں عدالتی کارروائی سے یہ طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ واقعے کی تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور دیگر تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات کے لیے کون سے قانونی اقدامات ضروری ہیں۔
نوٹ: ذمہ داروں کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں