📍 اسلام آباد: وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ممکنہ مزید سبسڈی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد حکومت نے قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
💸 قیمتوں میں بھاری اضافے کا امکان
ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لیٹر سے زائد اضافہ متوقع ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کے باعث حکومت کے لیے سبسڈی دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
📊 حکومت کا مؤقف اور اقدامات
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق:
حکومت نے تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کے لیے ترقیاتی بجٹ (PSDP) سے فنڈز استعمال کیے۔
گزشتہ ہفتے 56 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا چکی ہے۔
مجموعی طور پر 100 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے بڑی رقم استعمال ہو چکی ہے۔
اگر مزید سبسڈی دی گئی تو ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
🚫 وزیراعظم کا سابقہ فیصلہ
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے:
پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اضافہ مسترد کیا تھا
جبکہ ڈیزل پر 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو بھی روک دیا تھا
تاہم اب آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث حکومت کو قیمتیں بڑھانے کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
🌍 عالمی مارکیٹ کی صورتحال
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت 106 سے 108 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہیں، جو مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
🤝 صوبوں سے مشاورت
وفاقی حکومت قیمتوں میں اضافے سے قبل صوبوں سے مشاورت کرے گی تاکہ عوام پر ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
📉 ممکنہ اثرات
مہنگائی میں مزید اضافہ
ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ
عوامی سطح پر معاشی دباؤ میں اضافہ
📌 نتیجہ:
آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ تقریباً یقینی دکھائی دے رہا ہے، جس کا براہ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑے گا۔
🛢️ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان — آئی ایم ایف کا دباؤ برقرار
28