اگر وہ واقعی جرم میں ملوث تھا تو قانون کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے، شواہد اکٹھے کرنے اور عدالتی کارروائی کے بعد بھی اسے سزا دی جا سکتی تھی۔ لیکن وقت سے پہلے اس کی ہلاکت نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
کسی بھی سنگین جرم کی تفتیش کا مقصد صرف ایک ملزم تک پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پس پردہ عوامل، محرکات، ممکنہ سہولت کاروں اور تمام حقائق کو بے نقاب کرنا بھی ہوتا ہے۔ جب مرکزی ملزم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی مارا جائے تو بہت سے سوالات تشنہ رہ جاتے ہیں اور کئی اہم پہلو ہمیشہ کے لیے پردۂ راز میں چلے جاتے ہیں۔
اسی طرح ماضی میں بھی بعض ایسے واقعات سامنے آئے جہاں اہم ملزمان کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کے کئی دروازے بند ہو گئے اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ جرم کے پس منظر میں کون لوگ شامل تھے یا کن افراد نے معاونت فراہم کی تھی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر بڑے مقدمے میں شفاف، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ نہ صرف ملزمان کو قانون کے مطابق سزا ملے بلکہ متاثرین اور عوام کو بھی تمام حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ انصاف صرف سزا کا نام نہیں بلکہ سچائی تک پہنچنے کا عمل بھی ہے۔