مانسہرہ کو مستقل سیاحتی مرکز بنانے میں ناکامی، شہر صرف گزرگاہ بن کر رہ گیا.

26

مانسہرہ: چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مانسہرہ کے صدر ممتاز شاہ نے ضلع میں سیاحت کے فروغ سے متعلق اہم خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مانسہرہ اپنی بے پناہ قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثے اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود آج بھی ایک مستقل سیاحتی مرکز کے بجائے صرف ایک گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاح مانسہرہ سے گزر کر گلگت بلتستان، کاغان ویلی، ناران اور دیگر شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر سیاح مانسہرہ شہر میں قیام کرنے یا مقامی سیاحتی مقامات کا رخ کرنے کے بجائے براہ راست اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں، جس کے باعث مقامی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔
ممتاز شاہ کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران سیاحت کے فروغ کے لیے اربوں روپے مالیت کی فیزیبلٹی رپورٹس اور ترقیاتی منصوبے تیار کیے گئے، مگر عملی سطح پر مانسہرہ کو ایک مکمل اور پائیدار سیاحتی ڈیسٹینیشن کے طور پر ترقی دینے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ضلع میں مذہبی سیاحت، ایکو ٹورازم، ایڈونچر ٹورازم اور خصوصاً ونٹر ٹورازم کے شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن مناسب منصوبہ بندی، تشہیر اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان شعبوں سے بھرپور فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر برفباری کے موسم کو باقاعدہ سیاحتی سرگرمیوں، سرمائی کھیلوں اور خصوصی تقریبات کے ذریعے فروغ دیا جاتا تو نہ صرف مقامی کاروبار کو تقویت ملتی بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے تھے۔ سردیوں کے دوران مانسہرہ اور گردونواح کے برف پوش مقامات ملکی سیاحت کا اہم مرکز بن سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی جامع حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔
سیاحتی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ مانسہرہ میں قدرتی مناظر، تاریخی مقامات، مذہبی ورثہ اور موسمی تنوع موجود ہونے کے باوجود ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔ اگر جدید سہولیات، بہتر انفراسٹرکچر، مؤثر مارکیٹنگ اور نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تو مانسہرہ نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ ملک کے اہم ترین سیاحتی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔
مقامی کاروباری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مانسہرہ محض ایک گزرگاہ کے بجائے ایک فعال اور مستقل سیاحتی مرکز کی حیثیت حاصل کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں