ایبٹ آباد – ایبٹ آباد کے حالیہ واقعات کے بعد شہری محمد نوید جدون نے سوشل میڈیا پر ایک تلخ مگر اہم سوال اٹھایا ہے کہ کیا معاشرے کے سب سے پڑھے لکھے لوگ ہی اصل مافیا ہیں؟
محمد نوید جدون کے مطابق، پچھلے کچھ دنوں سے ایبٹ آباد میں جو حالات دیکھنے میں آئے ہیں، ان سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، وکلاء، ڈاکٹرز اور کاروباری طبقے سمیت معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہی اصل مافیا ہیں۔
“سب کے سب غنڈہ عناصر، سب کے سب اعلیٰ معیاری زندگی گزارنے والے، سب کی اولادیں اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والی، اور سب کے سب عوام کو صرف اور صرف بیوقوف بنانے والے۔”
“عوام ان کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ جب تک عوام ان کو گردنوں سے نہیں دبوچے گی، ایسے ہی ذلیل ہوتی رہے گی اور یہی ذلت ان کا مقدر ہی رہے گی۔”
اس قسم کے بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جہاں عوام مختلف مسائل پر اپنی بے بسی اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کی بیداری اور اجتماعی آواز ہی نظام میں تبدیلی لا سکتی ہے۔
ایبٹ آباد: “پڑھے لکھے طبقے کی مافیا” — عوام کے ایک شہری کا تلخ سوال
30