بریکنگ نیوز
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
14-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
23 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کی مبینہ گمشدگی اور بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست اسپیکر کے کزن وقار احمد خان نے سپریم کورٹ کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی۔
درخواست گزار کے مطابق اسپیکر بابر سلیم سواتی کو سی سی پی او پشاور کی موجودگی میں مسلح اور نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے کے منتخب اسپیکر کی جان، آزادی اور جسمانی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور ان کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا مؤقف
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے آئینی سربراہ کی مبینہ گمشدگی صرف ایک فرد کی آزادی کا معاملہ نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور جمہوری نظام سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہے۔ درخواست میں اسپیکر کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ہائیکورٹ سے کیا استدعا کی گئی؟
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کو فوری طور پر بازیاب کروا کر عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ متعلقہ حکام سے یہ بھی پوچھا جائے کہ اسپیکر کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اور کس قانونی اختیار کے تحت ان کی آزادی سلب کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے سی سی پی او پشاور سے واقعے، موقع پر موجود افراد اور اس وقت کے سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات طلب کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔
مزید برآں، درخواست میں مبینہ اغوا کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور سکیورٹی ریکارڈ محفوظ کرنے، ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور قانون کے مطابق کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
فوری عدالتی مداخلت کی درخواست
درخواست میں پولیس حکام کو اسپیکر کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے اور بازیابی تک مسلسل پیش رفت سے عدالت کو آگاہ رکھنے کا پابند بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق معاملہ حساس اور فوری نوعیت کا ہے، اس لیے درخواست کو بلا تاخیر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر غیر قانونی حراست ثابت ہو تو اسپیکر کی فوری رہائی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے احکامات جاری کیے جائیں۔
اہم وضاحت: یہ تفصیلات درخواست گزار کے مؤقف اور عدالت سے کی گئی استدعا پر مبنی ہیں۔ مبینہ اغوا کے دعوے اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق اسپیکر بابر سلیم سواتی کو سی سی پی او پشاور کی موجودگی میں مسلح اور نقاب پوش افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے کے منتخب اسپیکر کی جان، آزادی اور جسمانی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور ان کی موجودگی سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا مؤقف
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے آئینی سربراہ کی مبینہ گمشدگی صرف ایک فرد کی آزادی کا معاملہ نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور جمہوری نظام سے متعلق ایک اہم مسئلہ ہے۔ درخواست میں اسپیکر کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کو آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10 اور 14 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
ہائیکورٹ سے کیا استدعا کی گئی؟
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کو فوری طور پر بازیاب کروا کر عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ متعلقہ حکام سے یہ بھی پوچھا جائے کہ اسپیکر کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اور کس قانونی اختیار کے تحت ان کی آزادی سلب کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے سی سی پی او پشاور سے واقعے، موقع پر موجود افراد اور اس وقت کے سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات طلب کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔
مزید برآں، درخواست میں مبینہ اغوا کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور سکیورٹی ریکارڈ محفوظ کرنے، ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور قانون کے مطابق کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
فوری عدالتی مداخلت کی درخواست
درخواست میں پولیس حکام کو اسپیکر کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے اور بازیابی تک مسلسل پیش رفت سے عدالت کو آگاہ رکھنے کا پابند بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق معاملہ حساس اور فوری نوعیت کا ہے، اس لیے درخواست کو بلا تاخیر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر غیر قانونی حراست ثابت ہو تو اسپیکر کی فوری رہائی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے احکامات جاری کیے جائیں۔
اہم وضاحت: یہ تفصیلات درخواست گزار کے مؤقف اور عدالت سے کی گئی استدعا پر مبنی ہیں۔ مبینہ اغوا کے دعوے اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں