مانسہرہ ڈاٹ کام مانسہرہ ڈاٹ کام
7 جمادی الاول 1448 ہجری · پیر، 19 اکتوبر 2026
آج کی حدیث
سول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص محروم رہا، وہ شخص محروم رہا، وہ شخص محروم رہا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا، پھر بھی 🌷جنت میں داخل نہ ہو سکا🌷 اپنے والدین کی عزت کریں، ان کی خدمت کریں اور ان کے لیے دعا کرتے رہیں۔ ان کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کری
اپنی خبر بھیجیں
تازہ ترین
جامشورو: حادثے میں جاں بحق لڑکی کے اعضا نکالنے کا الزام، پولیس سرجن کی تردید • فیصل آباد: نجی پارکنگ سے گاڑی چوری، تعاقب کرنے والے کاروباری شخص کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا • شیخوپورہ میں دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم، اندھا دھند فائرنگ، دو ملزمان گرفتار • .کراچی ایئرپورٹ پر تھائی لینڈ جانے والے 2 پاکستانی مسافر آف لوڈ • .دیامر میں آتشزدگی، مکانات اور مال مویشی جل گئے، متاثرہ خاندانوں کو بھاری نقصان • خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز، ہزارہ ریجن کے لیے 75 فیصد سیکیورٹی الاؤنس کی سفارش • شکرگڑھ: بچوں کی لڑائی پر بڑوں میں تصادم، ایک شخص جاں بحق، دو زخمی • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پہلے ہی نافذ ہوجانی چاہیے تھی، نواز شریف • جامشورو: حادثے میں جاں بحق لڑکی کے اعضا نکالنے کا الزام، پولیس سرجن کی تردید • فیصل آباد: نجی پارکنگ سے گاڑی چوری، تعاقب کرنے والے کاروباری شخص کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا • شیخوپورہ میں دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم، اندھا دھند فائرنگ، دو ملزمان گرفتار • .کراچی ایئرپورٹ پر تھائی لینڈ جانے والے 2 پاکستانی مسافر آف لوڈ • .دیامر میں آتشزدگی، مکانات اور مال مویشی جل گئے، متاثرہ خاندانوں کو بھاری نقصان • خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز، ہزارہ ریجن کے لیے 75 فیصد سیکیورٹی الاؤنس کی سفارش • شکرگڑھ: بچوں کی لڑائی پر بڑوں میں تصادم، ایک شخص جاں بحق، دو زخمی • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پہلے ہی نافذ ہوجانی چاہیے تھی، نواز شریف •
بریکنگ نیوز

مانسہرہ میں صحافت کی آڑ میں مبینہ بلیک میلنگ؟ سرکاری افسران و ملازمین کو دباؤ میں لانے کے الزامات پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ

19-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 48 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: صحافت کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں عوامی شعور، حقائق کی نشاندہی، حکومتی و انتظامی کارکردگی کی نگرانی اور مظلوم کی آواز بننے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی کا بنیادی فریضہ معاشرے میں موجود خامیوں کو بے نقاب کرنا، عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حقائق کو غیر جانب داری کے ساتھ عوام تک پہنچانا ہے۔ تاہم، جب صحافت جیسے مقدس اور ذمہ دارانہ پیشے کو مبینہ طور پر ذاتی مفادات، مالی فائدے یا کسی فرد کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں تو یہ معاملہ محض صحافتی اخلاقیات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔
مانسہرہ میں بھی صحافت کے نام پر مبینہ طور پر سرکاری افسران اور ملازمین کو دباؤ میں لانے، منفی خبریں شائع یا نشر کرنے کی دھمکیاں دینے اور ذاتی مفادات کے لیے میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے جیسے الزامات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ایسے معاملات میں کسی بھی فرد یا گروہ کو شواہد اور قانونی کارروائی کے بغیر قصوروار قرار دینا مناسب نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر اس نوعیت کی شکایات موجود ہیں تو ان کا جائزہ شفاف، غیر جانب دارانہ اور قانونی طریقہ کار کے مطابق لیا جائے۔
صحافت کی آڑ میں مبینہ بلیک میلنگ؛ پیشہ ورانہ اقدار کے لیے لمحۂ فکریہ
اگر کوئی شخص صحافت، سوشل میڈیا یا خبر کی اشاعت کے اختیار کو مبینہ طور پر ذاتی یا مالی مفادات کے حصول، ناجائز دباؤ ڈالنے یا کسی سرکاری افسر و ملازم کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ ایسی شکایات کی صورت میں متعلقہ حکام کو دستیاب شواہد، پیغامات، ریکارڈ اور دیگر قابلِ تصدیق معلومات کی روشنی میں تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ حقیقت اور الزام کے درمیان واضح فرق سامنے آ سکے۔
صحافت کے نام پر کسی خبر کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا، منفی تشہیر کی دھمکی دینا یا کسی کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مبینہ طور پر ذاتی مفادات کے لیے نشانہ بنانا صحافتی اخلاقیات کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تاہم، یہ فرق بھی ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف مستند شواہد پر مبنی رپورٹنگ کو محض تنقید یا بلیک میلنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سرکاری افسران و ملازمین کو مبینہ طور پر دباؤ میں لانے کے معاملات کی تحقیقات کیوں ضروری ہیں؟
سرکاری افسران اور ملازمین ریاستی نظام کا حصہ ہیں اور عوامی خدمات کی انجام دہی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی سرکاری اہلکار کے خلاف شکایت، بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اس کی نشاندہی کرنا میڈیا کی جائز ذمہ داری ہے۔ لیکن اگر کسی افسر یا ملازم کو ذاتی رنجش، مالی مطالبات یا کسی دوسرے ناجائز مقصد کے تحت دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے معاملے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
متعلقہ حکام کو چاہیے کہ سرکاری اہلکاروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا قانون کے مطابق جائزہ لیں اور جہاں قابلِ تصدیق شواہد موجود ہوں، وہاں بلاامتیاز کارروائی کریں۔ اسی طرح کسی بھی شکایت کو محض الزام کی بنیاد پر درست تسلیم کرنے کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف سننا اور شواہد کی جانچ کرنا ضروری ہے۔
احتسابی صحافت اور ذاتی مفادات میں واضح فرق ناگزیر
ایک ذمہ دار معاشرے میں صحافت اور سرکاری اداروں کے درمیان اختلاف یا تنقید کو غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ صحافت کا کام حکومتی و انتظامی کارکردگی پر سوال اٹھانا، عوامی حقوق کا تحفظ کرنا اور ان مسائل کو سامنے لانا ہے جنہیں نظر انداز کیا جا رہا ہو۔ لیکن احتسابی صحافت اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے میڈیا کے استعمال میں واضح فرق ہونا چاہیے۔
اگر کسی خبر میں حقائق، دستاویزات اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو بنیاد بنایا گیا ہو تو وہ عوامی مفاد میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس، غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر، ذاتی عناد کی بنیاد پر الزامات اور کسی کو دباؤ میں لانے کے لیے منفی تشہیر کی دھمکی جیسے اقدامات کی شکایت ہو تو ان کی مناسب جانچ ضروری ہے۔
اسی اصول کا اطلاق سرکاری اداروں پر بھی ہوتا ہے۔ کسی سرکاری افسر یا ملازم کو محض اس کے عہدے کی وجہ سے تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، اور نہ ہی کسی صحافی کو محض اپنے پیشے کی بنیاد پر قانون اور اخلاقی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہے۔
صحافتی آزادی کے ساتھ جواب دہی بھی ضروری
آزاد صحافت جمہوری نظام کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم، صحافتی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ خبر کی تصدیق، غیر جانب داری، متعلقہ فریق کا مؤقف حاصل کرنے اور کسی فرد کی ساکھ سے متعلق ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے اصول نظر انداز کر دیے جائیں۔
میڈیا سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خبر شائع کرنے سے قبل دستیاب حقائق کی تصدیق کریں، غیر مصدقہ الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز کریں اور عوامی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔ دوسری جانب سرکاری اداروں کو بھی صحافیوں کے جائز سوالات کا جواب دینے، معلومات کی فراہمی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔
مانسہرہ میں شفاف تحقیقات اور ذمہ دارانہ صحافتی ماحول کی ضرورت
مانسہرہ جیسے اہم ضلع میں صحافت، انتظامیہ اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ صحافتی برادری اپنی پیشہ ورانہ ساکھ اور اخلاقی ذمہ داریوں کا تحفظ کرے، جبکہ سرکاری ادارے بھی شفافیت، جواب دہی اور عوامی خدمت کے معیار کو یقینی بنائیں۔
اگر صحافت کے نام پر مبینہ بلیک میلنگ، ناجائز دباؤ یا مالی مفادات کے حصول سے متعلق شکایات موجود ہیں تو متعلقہ فورمز پر ان کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ تحقیقات کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ حقائق سامنے لانا، ممکنہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنا اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ صحافتی تنظیمیں ایسے معاملات میں اپنے ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور اگر کسی فرد کے خلاف قابلِ تصدیق شکایت سامنے آئے تو اسے ذاتی یا گروہی اختلاف کے بجائے پیشہ ورانہ اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے۔
اختتامی مؤقف: صحافت کی اصل طاقت اس کی سچائی، دیانت داری، غیر جانب داری اور عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہے۔ صحافی کا قلم عوامی حقوق کے تحفظ اور حقائق کی نشاندہی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کو ناجائز دباؤ میں لانے کے لیے۔ اسی طرح سرکاری عہدہ بھی کسی فرد کو احتساب سے بالاتر نہیں بناتا۔ مانسہرہ میں صحافت کے نام پر مبینہ بلیک میلنگ سے متعلق شکایات کی شفاف تحقیقات، تمام فریقوں کو مؤقف پیش کرنے کا موقع اور شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی ہی وہ راستہ ہے جو صحافت کی ساکھ، سرکاری اداروں کے وقار اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ادارتی نوٹ: یہ تحریر عمومی اداریاتی و اصولی مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔ کسی مخصوص صحافی، میڈیا ادارے یا سرکاری اہلکار کے خلاف کسی الزام کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے مستند شواہد، متعلقہ فریق کا مؤقف اور قانونی طریقۂ کار ضروری ہے۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔

ووٹنگ جاری ہے! اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دیں
آخری تاریخ: 31 اکتوبر 2026