ضلعی انتظامیہ
شاہراہِ ریشم پر روزانہ ٹریفک کا عذاب، آخر کب تک؟ بٹ پل سے ٹاؤن شپ تک دس منٹ کا سفر سوا گھنٹے میں طے ہونے لگا
04-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
33 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: شاہراہِ ریشم پر ٹریفک کی بدترین صورتحال شہریوں کے لیے روزمرہ کا عذاب بن چکی ہے، بالخصوص شام کے اوقات میں بٹ پل سے ٹاؤن شپ تک چند منٹ کا سفر طے کرنے کے لیے شہریوں کو گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران اس روٹ پر سفر کرنے والے شہریوں کے مطابق تقریباً دس منٹ کا فاصلہ ایک گھنٹہ پندرہ منٹ میں طے کرنا پڑا، جو نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ روزانہ ملازمت، کاروبار، تعلیم اور دیگر ضروری امور کے لیے سفر کرنے والوں کے لیے شدید ذہنی کوفت کا باعث بھی بن رہا ہے۔ ٹریفک جام کے دوران ایک اور تشویش ناک پہلو شہریوں کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے، جہاں متعدد ڈرائیور قطاروں کی پابندی کرنے کے بجائے دائیں اور بائیں جانب سے گاڑیاں نکالنے، ڈبل اور ٹرپل لائنیں بنانے اور مخالف سمت سے راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے پہلے سے موجود رش مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ شاہراہِ ریشم کا طویل عرصے سے سنگل روڈ ہونا ہے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل گاڑیوں کی تعداد نسبتاً کم تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ٹریفک میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، اس کے باوجود سڑک کو جدید ضروریات کے مطابق کشادہ کرنے اور مناسب لینز میں تقسیم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ بیدرہ چوک، پنجاب چوک، پکھوال چوک اور قراقرم ہوٹل کے قریب بڑے تجارتی مراکز اور شاپنگ سینٹرز کی موجودگی، سڑک کے اطراف گاڑیوں کی آمدورفت اور بھاری لوڈ والے ٹرکوں سمیت بڑی گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی ٹریفک کی روانی متاثر کرنے والے عوامل میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ٹریفک پولیس اہلکار شدید رش کے باوجود ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم محدود سڑک اور شہریوں کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے باعث ان کے لیے صورتحال پر مکمل قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قطار توڑنے، غلط سمت سے گاڑی چلانے اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے، جبکہ فوری ریلیف کے لیے لاری اڈہ سے ٹاؤن شپ تک صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک ہیوی ٹریفک، بالخصوص لوڈڈ ٹرکوں اور لوڈرز کی آمدورفت محدود کرنے یا ان کے لیے مخصوص اوقات مقرر کرنے پر غور کیا جائے۔ شہریوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ شاہراہِ ریشم کو جدید تقاضوں کے مطابق کم از کم چار رویہ بنایا جائے، درمیان میں مناسب ڈیوائیڈر نصب کیا جائے اور دونوں اطراف پیدل چلنے والوں کے لیے باقاعدہ فٹ پاتھ تعمیر کیے جائیں، جبکہ چوکوں اور تجارتی مراکز کے اطراف پارکنگ اور ٹریفک مینجمنٹ کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ شاہراہِ ریشم سے روزانہ گزرنے والے شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، قطار میں رہیں اور اپنی سہولت کے لیے دوسروں کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں، سیاسی رہنماؤں اور متعلقہ حکام تک اس مسئلے کو پہنچائیں تاکہ اسے ترجیحات میں شامل کیا جا سکے۔ آخر کب تک بچے، خواتین، بزرگ، طلبہ اور روزانہ کام پر جانے والے شہری اس اذیت ناک صورتحال سے دوچار رہیں گے؟ شاہراہِ ریشم صرف ایک سڑک نہیں بلکہ پورے علاقے کی اہم تجارتی اور سفری گزرگاہ ہے، اس لیے اس کی بہتری کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ پورے مانسہرہ کے عوام کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے عارضی اقدامات سے آگے بڑھ کر شاہراہ کی کشادگی، بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور محفوظ سفری سہولیات کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کریں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں