ڈاکٹرز
خیبرپختونخوا میں جعلی رجسٹریشن اور غیرقانونی بھرتیوں کا معاملہ، 30 ڈاکٹر ملازمت سے برطرف
14-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے مبینہ جعلی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) رجسٹریشن اور غیرقانونی تقرریوں کے الزامات پر 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
برطرفی کا باضابطہ اعلامیہ جاری
اعلامیے کے مطابق، ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی ان کی وضاحتوں، پیش کردہ شواہد اور انکوائری رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کی گئی۔ متعلقہ حکام نے دستیاب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ملازمت سے برطرفی کا فیصلہ کیا۔
محکمہ صحت کے مطابق، یہ کارروائی ان ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی جن پر جعلی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن استعمال کرنے یا غیرقانونی طریقے سے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے الزامات تھے۔
شوکاز نوٹس اور سماعت کا موقع
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کارروائی سے قبل تمام متعلقہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے اور وضاحت دینے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق، ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کی گئی وضاحتوں اور شواہد کے ساتھ انکوائری رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔
سرکاری واجبات بھی وصول کیے جائیں گے
محکمہ صحت نے مزید واضح کیا ہے کہ ملازمت سے برطرف کیے گئے ڈاکٹروں سے سرکاری واجبات کی وصولی بھی کی جائے گی۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں واجبات کی مجموعی رقم اور وصولی کے طریقۂ کار کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
مختلف طبی مراکز میں تعینات تھے ڈاکٹر
اعلامیے کے مطابق، برطرف کیے گئے ڈاکٹر خیبرپختونخوا کے مختلف طبی مراکز میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کارروائی کے بعد ان کی سرکاری ملازمت ختم کر دی گئی ہے۔
اہم وضاحت
یہ خبر محکمہ صحت کے اعلامیے سے متعلق شائع شدہ رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے خلاف عائد الزامات اور محکمانہ کارروائی کی تفصیلات کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انفرادی مقدمات کی مزید تفصیلات یا کسی عدالتی فیصلے کی معلومات دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
برطرفی کا باضابطہ اعلامیہ جاری
اعلامیے کے مطابق، ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی ان کی وضاحتوں، پیش کردہ شواہد اور انکوائری رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کی گئی۔ متعلقہ حکام نے دستیاب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد ملازمت سے برطرفی کا فیصلہ کیا۔
محکمہ صحت کے مطابق، یہ کارروائی ان ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی جن پر جعلی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن استعمال کرنے یا غیرقانونی طریقے سے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے الزامات تھے۔
شوکاز نوٹس اور سماعت کا موقع
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کارروائی سے قبل تمام متعلقہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے اور وضاحت دینے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق، ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کی گئی وضاحتوں اور شواہد کے ساتھ انکوائری رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا گیا۔
سرکاری واجبات بھی وصول کیے جائیں گے
محکمہ صحت نے مزید واضح کیا ہے کہ ملازمت سے برطرف کیے گئے ڈاکٹروں سے سرکاری واجبات کی وصولی بھی کی جائے گی۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں واجبات کی مجموعی رقم اور وصولی کے طریقۂ کار کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
مختلف طبی مراکز میں تعینات تھے ڈاکٹر
اعلامیے کے مطابق، برطرف کیے گئے ڈاکٹر خیبرپختونخوا کے مختلف طبی مراکز میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کارروائی کے بعد ان کی سرکاری ملازمت ختم کر دی گئی ہے۔
اہم وضاحت
یہ خبر محکمہ صحت کے اعلامیے سے متعلق شائع شدہ رپورٹ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے خلاف عائد الزامات اور محکمانہ کارروائی کی تفصیلات کو متعلقہ سرکاری ریکارڈ کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انفرادی مقدمات کی مزید تفصیلات یا کسی عدالتی فیصلے کی معلومات دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں