پاکستان
ایک پورے صوبے کو دیوار سے لگا دیا گیا، عوامی مینڈیٹ کی توہین برداشت نہیں کریں گے، اپوزیشن لیڈر
20-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
33 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو ہٹا کر ایسے افراد کو مسلط کیا گیا ہے جن کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں، جب سیاستدان پُتلی بن جائیں تو تباہی جنم لیتی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کے ساتھ پیش آنے والے معاملات پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ 11 اکتوبر کو عوامی مینڈیٹ پر حملے کا آغاز ہوا اور عوام کے منتخب نمائندوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر قائم کی جانے والی کمیٹیوں میں مخصوص افراد کو شامل کیا گیا اور ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جنہیں عوامی حمایت حاصل نہیں۔
سیاستدانوں کی توہین برداشت نہیں کریں گے، راجہ ناصر عباس
قائدِ حزبِ اختلاف نے سوال اٹھایا کہ سیاستدانوں کی توہین کو کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر وہ ہر روز آواز اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی اس فیصلے کو مسترد کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک پورے صوبے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور پھر عوام کا تمسخر اڑاتے ہوئے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ باہر کیوں نہیں نکلتے۔
سیاستدان عوامی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنائیں، اپوزیشن لیڈر
علامہ راجہ ناصر عباس کے بیان میں عوامی مینڈیٹ کے احترام، منتخب نمائندوں کے کردار اور سیاسی عمل میں عوام کی رائے کو اہمیت دینے پر زور دیا گیا۔ ان کے مطابق سیاستدانوں کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع نہ ملنے سے سیاسی اور قومی سطح پر نقصان پہنچتا ہے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر تشویش
سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔
انہوں نے یمن میں جاری لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے اور جنگ رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔
پاکستان کے لیے سفارتی کردار کی اہمیت
علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق خطے میں کشیدگی اور جاری تنازعات کے تناظر میں پاکستان کو امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کی تجویز تھی کہ ثالثی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں کی جائیں۔
سینیٹ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ 11 اکتوبر کو عوامی مینڈیٹ پر حملے کا آغاز ہوا اور عوام کے منتخب نمائندوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر قائم کی جانے والی کمیٹیوں میں مخصوص افراد کو شامل کیا گیا اور ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جنہیں عوامی حمایت حاصل نہیں۔
سیاستدانوں کی توہین برداشت نہیں کریں گے، راجہ ناصر عباس
قائدِ حزبِ اختلاف نے سوال اٹھایا کہ سیاستدانوں کی توہین کو کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر وہ ہر روز آواز اٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی اس فیصلے کو مسترد کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک پورے صوبے کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور پھر عوام کا تمسخر اڑاتے ہوئے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ باہر کیوں نہیں نکلتے۔
سیاستدان عوامی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنائیں، اپوزیشن لیڈر
علامہ راجہ ناصر عباس کے بیان میں عوامی مینڈیٹ کے احترام، منتخب نمائندوں کے کردار اور سیاسی عمل میں عوام کی رائے کو اہمیت دینے پر زور دیا گیا۔ ان کے مطابق سیاستدانوں کو آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع نہ ملنے سے سیاسی اور قومی سطح پر نقصان پہنچتا ہے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر تشویش
سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔
انہوں نے یمن میں جاری لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے اور جنگ رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں کرے۔
پاکستان کے لیے سفارتی کردار کی اہمیت
علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق خطے میں کشیدگی اور جاری تنازعات کے تناظر میں پاکستان کو امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کی تجویز تھی کہ ثالثی اور سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں کی جائیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں