پاکستان
وزارتِ مواصلات میں 222 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ میں بھرتیوں سمیت متعدد معاملات پر سوالات
20-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
41 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: سابق وفاقی وزیرِ مواصلات مولانا اسعد محمود کے دورِ وزارت سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کی آڈٹ رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں، جن میں مجموعی طور پر 222 ارب 6 کروڑ 68 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سینئر صحافی غریدہ فاروقی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شیئر کی گئی خبر کے مطابق، آڈٹ رپورٹ میں مالی معاملات، بھرتیوں اور دیگر امور سے متعلق متعدد اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مذکورہ مالی بے ضابطگیوں کا تعلق مالی سال 2022-23ء کے دوران وزارتِ مواصلات کے معاملات سے بتایا گیا ہے، جب مولانا اسعد محمود وفاقی وزیرِ مواصلات و تعمیرات کے منصب پر فائز تھے۔ رپورٹ میں مختلف نوعیت کے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ان اعتراضات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور مجاز فورمز کی کارروائی سے ہوگا۔
دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی سے متعلق 40 کیسز میں اعتراضات
آڈٹ رپورٹ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی سے متعلق 40 کیسز میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 88 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان معاملات کی نوعیت، ذمہ داران اور رقوم کی وصولی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
بھرتیوں سے متعلق 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں
رپورٹ میں انسانی وسائل اور بھرتیوں سے متعلق چار کیسز میں مجموعی طور پر 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان معاملات نے سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے طریقۂ کار، قواعد و ضوابط پر عمل درآمد اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان پوسٹل سروسز میں منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ بھرتیوں کا معاملہ
خبر میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق، فنانس ڈویژن کی 30 ستمبر 2022ء کی ہدایات کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ میں خالی 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی۔
تاہم، خبر کے مطابق نگران حکومت کے دور میں گریڈ ایک سے 15 تک مجموعی طور پر 4 ہزار 252 افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اس طرح اجازت دی گئی آسامیوں کے مقابلے میں 314 اضافی بھرتیاں ہوئیں، جنہیں خبر میں قواعد و ضوابط کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔
اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ اضافی بھرتیوں کی منظوری کس اتھارٹی نے دی، آیا ان تقرریوں کے لیے متعلقہ قواعد پر عمل کیا گیا اور ذمہ داران کے تعین کے لیے کیا کارروائی کی گئی۔ ان سوالات کے حتمی جواب متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور تحقیقات سے ہی سامنے آسکتے ہیں۔
سیاسی اثر و رسوخ اور اقربا پروری کے الزامات
خبر میں سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے حوالے سے سیاسی اثر و رسوخ اور اقربا پروری سے متعلق دعوے بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپنے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کو گورنر خیبر پختونخوا بنانے کی شرط رکھنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جسے خبر میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے سیاسی تناظر سے جوڑا گیا ہے۔
تاہم، اس سیاسی دعوے کی آزادانہ تصدیق اور اس کے حق میں مستند شواہد کی دستیابی ضروری ہے۔ اسی طرح آڈٹ رپورٹ میں درج اعتراضات کو کسی فرد کے خلاف بدعنوانی کے حتمی عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ
سرکاری محکموں میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پابندی عوامی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات کی غیر جانب دارانہ جانچ، متعلقہ ریکارڈ کی پڑتال، ذمہ داریوں کے تعین اور سرکاری رقوم کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
متعلقہ حکام کی جانب سے ان اعتراضات پر باضابطہ وضاحت، تحقیقات کی پیش رفت اور ممکنہ مالی نقصانات کی وصولی سے متعلق معلومات سامنے آنے سے معاملے کی مکمل صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کی مکمل دستاویز، متعلقہ محکموں کا مؤقف اور کسی حتمی تحقیقاتی یا عدالتی نتیجے کی آزادانہ تصدیق اس متن میں شامل نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مذکورہ مالی بے ضابطگیوں کا تعلق مالی سال 2022-23ء کے دوران وزارتِ مواصلات کے معاملات سے بتایا گیا ہے، جب مولانا اسعد محمود وفاقی وزیرِ مواصلات و تعمیرات کے منصب پر فائز تھے۔ رپورٹ میں مختلف نوعیت کے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ان اعتراضات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور مجاز فورمز کی کارروائی سے ہوگا۔
دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی سے متعلق 40 کیسز میں اعتراضات
آڈٹ رپورٹ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی سے متعلق 40 کیسز میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 88 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان معاملات کی نوعیت، ذمہ داران اور رقوم کی وصولی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
بھرتیوں سے متعلق 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں
رپورٹ میں انسانی وسائل اور بھرتیوں سے متعلق چار کیسز میں مجموعی طور پر 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان معاملات نے سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے طریقۂ کار، قواعد و ضوابط پر عمل درآمد اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان پوسٹل سروسز میں منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ بھرتیوں کا معاملہ
خبر میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق، فنانس ڈویژن کی 30 ستمبر 2022ء کی ہدایات کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ میں خالی 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی۔
تاہم، خبر کے مطابق نگران حکومت کے دور میں گریڈ ایک سے 15 تک مجموعی طور پر 4 ہزار 252 افراد کو بھرتی کیا گیا۔ اس طرح اجازت دی گئی آسامیوں کے مقابلے میں 314 اضافی بھرتیاں ہوئیں، جنہیں خبر میں قواعد و ضوابط کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔
اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ اضافی بھرتیوں کی منظوری کس اتھارٹی نے دی، آیا ان تقرریوں کے لیے متعلقہ قواعد پر عمل کیا گیا اور ذمہ داران کے تعین کے لیے کیا کارروائی کی گئی۔ ان سوالات کے حتمی جواب متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور تحقیقات سے ہی سامنے آسکتے ہیں۔
سیاسی اثر و رسوخ اور اقربا پروری کے الزامات
خبر میں سینئر صحافی غریدہ فاروقی کے حوالے سے سیاسی اثر و رسوخ اور اقربا پروری سے متعلق دعوے بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اپنے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کو گورنر خیبر پختونخوا بنانے کی شرط رکھنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، جسے خبر میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے سیاسی تناظر سے جوڑا گیا ہے۔
تاہم، اس سیاسی دعوے کی آزادانہ تصدیق اور اس کے حق میں مستند شواہد کی دستیابی ضروری ہے۔ اسی طرح آڈٹ رپورٹ میں درج اعتراضات کو کسی فرد کے خلاف بدعنوانی کے حتمی عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ
سرکاری محکموں میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پابندی عوامی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات کی غیر جانب دارانہ جانچ، متعلقہ ریکارڈ کی پڑتال، ذمہ داریوں کے تعین اور سرکاری رقوم کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
متعلقہ حکام کی جانب سے ان اعتراضات پر باضابطہ وضاحت، تحقیقات کی پیش رفت اور ممکنہ مالی نقصانات کی وصولی سے متعلق معلومات سامنے آنے سے معاملے کی مکمل صورتِ حال واضح ہو سکے گی۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کی مکمل دستاویز، متعلقہ محکموں کا مؤقف اور کسی حتمی تحقیقاتی یا عدالتی نتیجے کی آزادانہ تصدیق اس متن میں شامل نہیں ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں