پاکستان
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی تیاریاں تیز، 6 کمپنیاں SECP میں رجسٹرڈ
08-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
30 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کی جانب اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اب تک چھ کمپنیوں نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ (PSARB) کے قیام کے بعد چار نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی، جسے ملک میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ سروسز متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی SECP میں رجسٹریشن کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ سروسز کے باقاعدہ آغاز کے لیے متعلقہ کمپنیوں کو PSARB سے لازمی این او سی حاصل کرنے سمیت تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
حکام کے مطابق اسٹار لنک، گلیکسی اسپیس اور اسپیس سیل پاکستان سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیوں کے غیر ملکی ڈائریکٹرز اور اہم شیئر ہولڈرز کی سیکیورٹی جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی ادارے اور وزارتِ داخلہ کام کر رہے ہیں، جبکہ ڈیٹا پرائیویسی اور قومی سلامتی سے متعلق تقاضوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ابتدائی قانونی مراحل اور سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہونے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے متعلقہ کمپنیوں کو کمرشل آپریٹنگ لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ اس طرح سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی عملی فراہمی کے لیے مختلف ریگولیٹری اداروں کی منظوری ضروری ہوگی۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز پاکستان کے ان دور دراز، پہاڑی اور دیہی علاقوں میں رابطے کی سہولت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں جہاں روایتی فائبر آپٹک نیٹ ورک کی رسائی محدود یا دستیاب نہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ کی بہتر سہولت فراہم ہونے سے تعلیم، کاروبار، صحت اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھنے سے مستقبل میں صارفین کو بہتر سروسز اور ممکنہ طور پر کم نرخوں پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔ تاہم، سروسز کے آغاز، دستیابی اور قیمتوں کا انحصار متعلقہ اداروں کی منظوریوں اور کمپنیوں کی عملی تیاری پر ہوگا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی SECP میں رجسٹریشن کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ سروسز کے باقاعدہ آغاز کے لیے متعلقہ کمپنیوں کو PSARB سے لازمی این او سی حاصل کرنے سمیت تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
حکام کے مطابق اسٹار لنک، گلیکسی اسپیس اور اسپیس سیل پاکستان سمیت دیگر غیر ملکی کمپنیوں کے غیر ملکی ڈائریکٹرز اور اہم شیئر ہولڈرز کی سیکیورٹی جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی ادارے اور وزارتِ داخلہ کام کر رہے ہیں، جبکہ ڈیٹا پرائیویسی اور قومی سلامتی سے متعلق تقاضوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ابتدائی قانونی مراحل اور سیکیورٹی کلیئرنس مکمل ہونے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے متعلقہ کمپنیوں کو کمرشل آپریٹنگ لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ اس طرح سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کی عملی فراہمی کے لیے مختلف ریگولیٹری اداروں کی منظوری ضروری ہوگی۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز پاکستان کے ان دور دراز، پہاڑی اور دیہی علاقوں میں رابطے کی سہولت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں جہاں روایتی فائبر آپٹک نیٹ ورک کی رسائی محدود یا دستیاب نہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انٹرنیٹ کی بہتر سہولت فراہم ہونے سے تعلیم، کاروبار، صحت اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھنے سے مستقبل میں صارفین کو بہتر سروسز اور ممکنہ طور پر کم نرخوں پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔ تاہم، سروسز کے آغاز، دستیابی اور قیمتوں کا انحصار متعلقہ اداروں کی منظوریوں اور کمپنیوں کی عملی تیاری پر ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں