پولیس
.پشاور: حیات آباد میں نادرا افسر فہد خان قتل، معروف سیاستدان نور عالم خان کے بھتیجے تھے، نامعلوم ملزمان کی فائرنگ
06-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
29 وزٹ
Read in English
پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد فیز 5 میں نادرا دفتر کے قریب فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں نادرا کے افسر فہد خان جاں بحق ہو گئے۔ مقتول معروف سیاستدان اور رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھتیجے تھے۔ واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش اور قتل کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ 6 نومبر 2026 کو حیات آباد فیز 5 میں نادرا دفتر کے عقب میں واقع پارکنگ ایریا کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے فہد خان کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق فہد خان نادرا دفتر میں ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے کہ اس دوران انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
پشاور پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو محفوظ بنانے کے بعد شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے آٹھ خالی خول برآمد ہوئے ہیں، جنہیں تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
پولیس نے مقتول کی لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔ تفتیشی ٹیموں کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ نادرا دفتر اور پارکنگ ایریا میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی دیکھی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔
مقتول فہد خان کا تعلق پشاور کے علاقے کافور ڈھیری سے تھا اور وہ شاروم خان کے صاحبزادے تھے۔ وہ رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھتیجے جبکہ متھرا تحصیل کے سابق چیئرمین مرحوم فرید اللہ خان کے بھی بھتیجے بتائے جاتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بھتیجے کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں واقعے کو دہشت گردی قرار دیا، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال حملے کے اصل محرکات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں قتل کی وجہ کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، تاہم کسی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سرکاری دفاتر کے اطراف شہریوں اور ملازمین کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ 6 نومبر 2026 کو حیات آباد فیز 5 میں نادرا دفتر کے عقب میں واقع پارکنگ ایریا کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے فہد خان کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق فہد خان نادرا دفتر میں ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے کہ اس دوران انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
پشاور پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو محفوظ بنانے کے بعد شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کے آٹھ خالی خول برآمد ہوئے ہیں، جنہیں تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
پولیس نے مقتول کی لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔ تفتیشی ٹیموں کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ نادرا دفتر اور پارکنگ ایریا میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی دیکھی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔
مقتول فہد خان کا تعلق پشاور کے علاقے کافور ڈھیری سے تھا اور وہ شاروم خان کے صاحبزادے تھے۔ وہ رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے بھتیجے جبکہ متھرا تحصیل کے سابق چیئرمین مرحوم فرید اللہ خان کے بھی بھتیجے بتائے جاتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بھتیجے کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں واقعے کو دہشت گردی قرار دیا، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال حملے کے اصل محرکات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں قتل کی وجہ کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، تاہم کسی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سرکاری دفاتر کے اطراف شہریوں اور ملازمین کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں