خیبر پختونخوا میں سیاسی رہنماؤں کی مبینہ جبری گمشدگیاں، حراستوں اور فائرنگ کے واقعات پر تشویش
14-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
22 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے متعدد سیاسی رہنماؤں، منتخب نمائندوں، وزراء اور کارکنوں کی مبینہ جبری گمشدگیوں، اغوا اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے حوالے سے سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔ بیان میں صوبے میں فوجی اور پولیس کارروائیوں کے دوران جانی نقصان اور مواصلاتی نظام کی بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کور کمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے احکامات پر صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر خان سواتی اور پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر سمیت متعدد رہنماؤں کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ یا حراست میں رکھا گیا ہے۔
منتخب نمائندوں اور پارٹی رہنماؤں سے متعلق دعوے
بیان کے مطابق، سات ارکانِ صوبائی اسمبلی اور وزراء سمیت متعدد سیاسی شخصیات کے بارے میں بھی جبری گمشدگی، اغوا اور حبسِ بے جا کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں فضل شکور خان، ڈاکٹر امجد علی، عبدالسلام آفریدی، محمد ریاض اور سلطان روم کے نام شامل ہیں۔
اسی طرح قومی اسمبلی کے ارکان فضل خان اور زبیر خان کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ رکنِ قومی اسمبلی داور کنڈی کی گرفتاری کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
بیان میں سینئر رہنما سجاد خان مہمند، انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر نبی جان، صوبائی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سردار محمد سعد اور درجنوں دیگر عہدیداروں و کارکنوں کی مبینہ گمشدگی یا حراست کے دعوے بھی شامل ہیں۔
فائرنگ اور مواصلاتی بندش پر تشویش
بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران فوج اور پولیس کی مبینہ براہِ راست فائرنگ سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، تاہم انٹرنیٹ، کیبل اور موبائل فون سروسز کی بندش کے باعث جانی نقصان کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔
تصدیق اور سرکاری مؤقف
ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق، مبینہ طور پر لاپتہ افراد کی موجودہ حیثیت اور جانی نقصان کی تعداد کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ متعلقہ حکام کا مؤقف اور واقعات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے تاکہ صورتِ حال کی درست تصویر واضح ہو سکے۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ بیان میں شامل الزامات اور دعوؤں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ان دعوؤں کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقائق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کور کمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے احکامات پر صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر خان سواتی اور پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر سمیت متعدد رہنماؤں کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ یا حراست میں رکھا گیا ہے۔
منتخب نمائندوں اور پارٹی رہنماؤں سے متعلق دعوے
بیان کے مطابق، سات ارکانِ صوبائی اسمبلی اور وزراء سمیت متعدد سیاسی شخصیات کے بارے میں بھی جبری گمشدگی، اغوا اور حبسِ بے جا کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں فضل شکور خان، ڈاکٹر امجد علی، عبدالسلام آفریدی، محمد ریاض اور سلطان روم کے نام شامل ہیں۔
اسی طرح قومی اسمبلی کے ارکان فضل خان اور زبیر خان کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ رکنِ قومی اسمبلی داور کنڈی کی گرفتاری کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
بیان میں سینئر رہنما سجاد خان مہمند، انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر نبی جان، صوبائی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سردار محمد سعد اور درجنوں دیگر عہدیداروں و کارکنوں کی مبینہ گمشدگی یا حراست کے دعوے بھی شامل ہیں۔
فائرنگ اور مواصلاتی بندش پر تشویش
بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران فوج اور پولیس کی مبینہ براہِ راست فائرنگ سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، تاہم انٹرنیٹ، کیبل اور موبائل فون سروسز کی بندش کے باعث جانی نقصان کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔
تصدیق اور سرکاری مؤقف
ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق، مبینہ طور پر لاپتہ افراد کی موجودہ حیثیت اور جانی نقصان کی تعداد کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ متعلقہ حکام کا مؤقف اور واقعات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے تاکہ صورتِ حال کی درست تصویر واضح ہو سکے۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ بیان میں شامل الزامات اور دعوؤں کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ان دعوؤں کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقائق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں