جرائم
ایبٹ آباد: خواتین کے خلاف مبینہ نازیبا گفتگو کی ویڈیو وائرل، تین افراد کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ درج
05-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
34 وزٹ
Read in English
ایبٹ آباد : امتیاز مال کے باہر پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمہ امن فورم ایبٹ آباد کے وکیل شہباز خان اور دیگر شکایت کنندگان کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد میں خواتین کے خلاف مبینہ نازیبا، غیر اخلاقی اور توہین آمیز گفتگو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر گردش کرنے لگی، جس میں مبینہ طور پر دو نوجوانوں اور ایک لڑکی کو امتیاز مال کے باہر موجود ہجوم میں خواتین کے خلاف نازیبا گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ایف آئی آر نمبر 124/2026 کے مطابق 3 نومبر 2026 کو امن فورم ایبٹ آباد کے وکیل شہباز خان اور دیگر افراد کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ @iqra_khan50 سے شیئر کی گئی ویڈیو میں خواتین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کا واقعہ سامنے آیا، جس سے خواتین کی عزت و وقار مجروح ہوا اور سوشل میڈیا پر عوامی سطح پر اشتعال پیدا ہوا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق انکوائری نمبر 1625/2026 کے تحت ویڈیو اور متعلقہ ٹک ٹاک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت بھی کی گئی۔ انکوائری کے دوران الزامات کی تائید ہونے پر مجاز اتھارٹی کی منظوری سے باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مقدمے میں نامزد ملزمان میں جنید زئی عرف جانی ولد عبدالرشید، شعیب اختر ولد محمد زبیر اور مسماۃ اقراء وحید دختر سردار وحید شامل ہیں۔
این سی سی آئی اے نے مذکورہ افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، ترمیم شدہ 2025 کی دفعات 20 اور 24، جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 294 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر سیدہ پاکیزہ کے سپرد کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے میں دیگر ممکنہ ملوث افراد کے کردار کا تعین بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلے سے ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد میں خواتین کے خلاف مبینہ نازیبا، غیر اخلاقی اور توہین آمیز گفتگو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر گردش کرنے لگی، جس میں مبینہ طور پر دو نوجوانوں اور ایک لڑکی کو امتیاز مال کے باہر موجود ہجوم میں خواتین کے خلاف نازیبا گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
ایف آئی آر نمبر 124/2026 کے مطابق 3 نومبر 2026 کو امن فورم ایبٹ آباد کے وکیل شہباز خان اور دیگر افراد کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ @iqra_khan50 سے شیئر کی گئی ویڈیو میں خواتین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کا واقعہ سامنے آیا، جس سے خواتین کی عزت و وقار مجروح ہوا اور سوشل میڈیا پر عوامی سطح پر اشتعال پیدا ہوا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق انکوائری نمبر 1625/2026 کے تحت ویڈیو اور متعلقہ ٹک ٹاک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت بھی کی گئی۔ انکوائری کے دوران الزامات کی تائید ہونے پر مجاز اتھارٹی کی منظوری سے باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مقدمے میں نامزد ملزمان میں جنید زئی عرف جانی ولد عبدالرشید، شعیب اختر ولد محمد زبیر اور مسماۃ اقراء وحید دختر سردار وحید شامل ہیں۔
این سی سی آئی اے نے مذکورہ افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016، ترمیم شدہ 2025 کی دفعات 20 اور 24، جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 294 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر سیدہ پاکیزہ کے سپرد کر دی گئی ہے، جبکہ واقعے میں دیگر ممکنہ ملوث افراد کے کردار کا تعین بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلے سے ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں