جرائم
مانسہرہ: بانڈہ لعل خان میں چوری کی واردات ٹریس، دادا اور پوتا گرفتار، ڈیڑھ لاکھ روپے اور طلائی و چاندی کے زیورات برآمد
05-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
22 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: تھانہ سٹی کی حدود بانڈہ لعل خان میں ہونے والی چوری کی واردات کا معمہ حل کرتے ہوئے مانسہرہ پولیس نے دادا اور پوتے کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ زیورات اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مانسہرہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 22 اکتوبر 2026 کو بانڈہ لعل خان کے رہائشی ایک سکول ٹیچر نے تھانہ سٹی میں رپورٹ درج کروائی کہ وہ صبح حسبِ معمول سکول گیا ہوا تھا، جبکہ اس کی والدہ گھر سے باہر اور اہلیہ کالج گئی ہوئی تھیں۔
دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے جب اس کی اہلیہ گھر واپس پہنچیں تو کمرے کی کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور گھر کا سامان بکھرا پڑا تھا۔ گھر کی تلاشی لینے پر دراز میں رکھے طلائی زیورات غائب پائے گئے، جس پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد تھانہ سٹی پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ شعبہ تفتیش کے اے ایس آئی ساجد رویز نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر واردات میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں حضر ولد وقار سکنہ پھل گلاب روڈ، گلی نمبر 11، ایبٹ آباد اور اس کا دادا سردار محمد شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ زیورات کی فروخت سے حاصل ہونے والی ڈیڑھ لاکھ روپے نقد رقم، ایک طلائی کنگن اور دو چاندی کے کنگن برآمد کر لیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور چوری کی واردات کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پھل گلاب روڈ ایبٹ آباد کے بعض مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر چوری کی وارداتوں میں ملوث ایک گروہ علاقے میں سرگرم ہے اور ایبٹ آباد میں بھی چوری کی وارداتوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے متعلقہ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان شکایات کا نوٹس لے کر معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ گرفتاری اور برآمدگی سے متعلق تفصیلات مانسہرہ پولیس کی پریس ریلیز پر مبنی ہیں، جبکہ ملزمان کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق مانسہرہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 22 اکتوبر 2026 کو بانڈہ لعل خان کے رہائشی ایک سکول ٹیچر نے تھانہ سٹی میں رپورٹ درج کروائی کہ وہ صبح حسبِ معمول سکول گیا ہوا تھا، جبکہ اس کی والدہ گھر سے باہر اور اہلیہ کالج گئی ہوئی تھیں۔
دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے جب اس کی اہلیہ گھر واپس پہنچیں تو کمرے کی کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور گھر کا سامان بکھرا پڑا تھا۔ گھر کی تلاشی لینے پر دراز میں رکھے طلائی زیورات غائب پائے گئے، جس پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد تھانہ سٹی پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ شعبہ تفتیش کے اے ایس آئی ساجد رویز نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر واردات میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں حضر ولد وقار سکنہ پھل گلاب روڈ، گلی نمبر 11، ایبٹ آباد اور اس کا دادا سردار محمد شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ زیورات کی فروخت سے حاصل ہونے والی ڈیڑھ لاکھ روپے نقد رقم، ایک طلائی کنگن اور دو چاندی کے کنگن برآمد کر لیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور چوری کی واردات کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پھل گلاب روڈ ایبٹ آباد کے بعض مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر چوری کی وارداتوں میں ملوث ایک گروہ علاقے میں سرگرم ہے اور ایبٹ آباد میں بھی چوری کی وارداتوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے متعلقہ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان شکایات کا نوٹس لے کر معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ گرفتاری اور برآمدگی سے متعلق تفصیلات مانسہرہ پولیس کی پریس ریلیز پر مبنی ہیں، جبکہ ملزمان کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں