مقامی خبریں
مولانا فضل الرحمان کے مانسہرہ جلسے میں تقریباً 2 ہزار افراد کی شرکت کا دعویٰ، تنظیمی اختلافات اور سیاسی شمولیت زیرِ بحث
04-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
24 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں مانسہرہ میں منعقدہ حالیہ جلسہ سیاسی اور تنظیمی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا۔ دعانیوز24 کی خصوصی رپورٹ کے مطابق آزادانہ تجزیے اور سیکیورٹی اداروں سے منسوب اعداد و شمار کی بنیاد پر جلسے میں تقریباً 2 ہزار افراد نے شرکت کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختصر وقت میں پروگرام منعقد ہونے کے باوجود یہ حاضری توقعات سے بہتر رہی۔ جلسے کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے اندرونی اختلافات کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا۔ رپورٹ کے مطابق مفتی کفایت اللہ سے وابستہ گروپ نے باضابطہ اعلان کے بغیر جلسے میں شرکت نہیں کی، جبکہ گروپ کی جانب سے ضلعی تنظیم میں اپنی اکثریت اور حقیقی قیادت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب مفتی ناصر سے وابستہ گروپ کی تنظیمی حیثیت پر بھی اختلافات سامنے آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ جلسے کا ایک اہم پہلو ملک وحید کی جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت بتایا گیا، جس پر مقامی سیاسی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان جیسے مرکزی قائد کی موجودگی میں کسی بڑی سیاسی شخصیت کی شمولیت متوقع تھی، جبکہ ملک وحید کی سیاسی حیثیت اور ماضی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بحث کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک وحید ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں اور تقریباً 10 سے 12 سال قبل صوبائی اسمبلی کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ مجموعی طور پر رپورٹ میں جلسے کو مختصر نوٹس پر حاضری کے اعتبار سے بہتر قرار دیا گیا، تاہم اس کے سیاسی مقاصد، مقامی تنظیمی اختلافات اور نئی سیاسی شمولیت کے اثرات کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ جلسے میں شرکاء کی تعداد، گروپوں کی عدم شرکت اور سیاسی شمولیت سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں