پاکستان
.خیبر پختونخوا کے 14 سرکاری محکموں میں 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
02-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
48 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبر پختونخوا کے 14 انتظامی محکموں کے آڈٹ کے دوران 3 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں اور مشکوک اخراجات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سرکاری ٹھیکوں کی مشکوک اور غیر شفاف منظوری، ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں میں 90 کروڑ 81 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی ادائیگیوں اور 60 کروڑ روپے سے زائد کے غیر مجاز اخراجات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیداروں کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کارروائی نہ کیے جانے کے باعث سرکاری خزانے کو 37 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد کا مالی نقصان پہنچا۔ آڈٹ سال 2024-25 کے دوران قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق آڈٹ کے پہلے مرحلے میں آڈٹ کے لیے منتخب 28 پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (PAOs) میں سے 14 انتظامی محکموں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 11 کروڑ 70 لاکھ 9 ہزار روپے کی ریکوری بھی کی گئی، جس کی آڈٹ حکام نے تصدیق کی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے ان اعداد و شمار نے سرکاری فنڈز کے استعمال، ترقیاتی منصوبوں میں مالی نگرانی، ٹھیکوں کی شفاف منظوری اور متعلقہ محکموں کی جواب دہی سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم آڈٹ اعتراضات کو حتمی طور پر بدعنوانی یا جرم کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ محکموں کے جوابات اور مزید تحقیقات کے بعد ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں