پاکستان
کراچی ایئرپورٹ، 27 اپریل 1976: پاکستان کے پہلے بوئنگ 747 جمبو جیٹ کی آمد
08-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
24 وزٹ
Read in English
کراچی: 27 اپریل 1976 پاکستان کی فضائی تاریخ کا ایک اہم دن تھا، جب ملک کا پہلا بوئنگ 747 طیارہ، جسے دنیا بھر میں ’’جمبو جیٹ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کراچی ایئرپورٹ پہنچا۔
پاکستان نے 1976ء میں اُس وقت کی حکومت کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بوئنگ 747 طیارے حاصل کیے تھے۔ ان طیاروں کی آمد کو پاکستان کی فضائی صنعت اور قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔
تاریخی معلومات کے مطابق پہلا بوئنگ 747 طیارہ لزبن، لندن اور اسلام آباد سے ہوتا ہوا کراچی پہنچا۔ اس پرواز میں اُس وقت کے چیئرمین پی آئی اے، ایئر مارشل نور خان بھی سوار تھے۔
اس موقع پر کراچی ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ تاہم تصویر میں دکھائی دینے والا ہجوم عام شہریوں کا نہیں بلکہ پی آئی اے کے ملازمین اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل تھا، جو ایئر مارشل نور خان اور طیارے کے عملے کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے۔
استقبالی تقریب میں پی آئی اے کے عملے کے علاوہ ٹریڈ یونین کے نمائندوں، ایئرپورٹ اتھارٹی اور سول ایوی ایشن کے ملازمین، خصوصی پاسز پر مدعو کیے گئے مہمانوں اور مختلف اخبارات کے صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ صحافیوں کی بڑی تعداد نے اس تاریخی موقع کی کوریج بھی کی۔
بوئنگ 747 کی پاکستان آمد اُس دور میں فضائی سفر کے شعبے میں ایک نمایاں پیشرفت تھی۔ یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کے اہم یادگار لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے 1976ء میں اُس وقت کی حکومت کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بوئنگ 747 طیارے حاصل کیے تھے۔ ان طیاروں کی آمد کو پاکستان کی فضائی صنعت اور قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔
تاریخی معلومات کے مطابق پہلا بوئنگ 747 طیارہ لزبن، لندن اور اسلام آباد سے ہوتا ہوا کراچی پہنچا۔ اس پرواز میں اُس وقت کے چیئرمین پی آئی اے، ایئر مارشل نور خان بھی سوار تھے۔
اس موقع پر کراچی ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ تاہم تصویر میں دکھائی دینے والا ہجوم عام شہریوں کا نہیں بلکہ پی آئی اے کے ملازمین اور مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل تھا، جو ایئر مارشل نور خان اور طیارے کے عملے کے استقبال کے لیے جمع ہوئے تھے۔
استقبالی تقریب میں پی آئی اے کے عملے کے علاوہ ٹریڈ یونین کے نمائندوں، ایئرپورٹ اتھارٹی اور سول ایوی ایشن کے ملازمین، خصوصی پاسز پر مدعو کیے گئے مہمانوں اور مختلف اخبارات کے صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ صحافیوں کی بڑی تعداد نے اس تاریخی موقع کی کوریج بھی کی۔
بوئنگ 747 کی پاکستان آمد اُس دور میں فضائی سفر کے شعبے میں ایک نمایاں پیشرفت تھی۔ یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کے اہم یادگار لمحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں