پاکستان
کراچی: کم عمر لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خدشات، والدہ اور دو بہنوں سمیت تین خواتین آف لوڈ
10-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
21 وزٹ
Read in English
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر متحدہ عرب امارات جانے والی تین خواتین کو کم عمر لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خدشات کے پیشِ نظر آف لوڈ کر دیا۔ حکام کے مطابق، معاملے کی مزید تحقیقات اور ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے۔
سفری دستاویزات اور مقصدِ سفر کی جانچ پڑتال
دستیاب اطلاعات کے مطابق، آف لوڈ کی جانے والی مسافروں میں دو بہنیں، مائرہ اور علیشہ، اور ان کی والدہ بینہ شامل ہیں۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران تینوں سے ان کے سفر کے مقصد، سفری انتظامات اور متعلقہ دستاویزات کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔
دورانِ انٹرویو مائرہ نے اپنی عمر تقریباً 16 سے 17 سال بتائی اور الزام عائد کیا کہ اس کے والدین نے پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات میں اس کی عمر اصل عمر سے زیادہ ظاہر کی تھی۔
لڑکی نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے متحدہ عرب امارات میں کلبوں اور ہوٹلوں میں جنسی سرگرمیوں میں ملوث کیا گیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور مزید تحقیقات ضروری ہیں۔
موبائل فون سے مبینہ رابطوں کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران لڑکی کی والدہ کے موبائل فون میں مبینہ ایجنٹ حارث کے ساتھ واٹس ایپ گفتگو سامنے آئی۔ ان پیغامات میں ویزوں، فضائی ٹکٹوں اور سفری اخراجات کے انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گفتگو میں لڑکیوں کی آمدن ماہانہ چھ لاکھ روپے تک بڑھانے اور دیگر لڑکیوں سے متعلق معاملات کا ذکر تھا۔ تاہم، ان پیغامات کے اصل مفہوم، صداقت اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے تعلق کا تعین ڈیجیٹل شواہد کے فارنزک تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
مبینہ مالی لین دین کی تحقیقات
دستیاب معلومات کے مطابق، مبینہ ایجنٹ نے مسافروں کے سفری انتظامات کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔ لڑکی کی والدہ کے موبائل فون میں چار لاکھ روپے کی بینک ٹرانزیکشن کی رسید ملنے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے مطابق رقم مبینہ طور پر ان کے والد مقصود علی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی۔
حکام کے لیے اس مالی لین دین کے مقصد، متعلقہ بینک اکاؤنٹس، ٹریول ایجنسی اور مبینہ ایجنٹ کے کردار کی مزید جانچ ضروری قرار دی گئی ہے۔
ایف آئی اے کی مزید کارروائی
معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر تینوں خواتین کو مزید تصدیق، ڈیجیٹل شواہد کے فارنزک تجزیے اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے متعلقہ حکام کے حوالے کرنے کی کارروائی کی گئی۔
حکام کی جانب سے دیگر ممکنہ متاثرہ لڑکیوں کی شناخت، سابقہ سفری انتظامات، مالی روابط اور اس معاملے میں والدین سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کی تحقیقات بھی ضروری قرار دی گئی ہیں۔
اہم وضاحت: یہ معاملہ فی الحال مبینہ انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکی کے ممکنہ جنسی استحصال سے متعلق الزامات اور خدشات پر مبنی ہے۔ تمام الزامات کی تصدیق تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا باقی ہے۔ کسی بھی شخص کے جرم میں ملوث ہونے کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔
سفری دستاویزات اور مقصدِ سفر کی جانچ پڑتال
دستیاب اطلاعات کے مطابق، آف لوڈ کی جانے والی مسافروں میں دو بہنیں، مائرہ اور علیشہ، اور ان کی والدہ بینہ شامل ہیں۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران تینوں سے ان کے سفر کے مقصد، سفری انتظامات اور متعلقہ دستاویزات کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔
دورانِ انٹرویو مائرہ نے اپنی عمر تقریباً 16 سے 17 سال بتائی اور الزام عائد کیا کہ اس کے والدین نے پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات میں اس کی عمر اصل عمر سے زیادہ ظاہر کی تھی۔
لڑکی نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے متحدہ عرب امارات میں کلبوں اور ہوٹلوں میں جنسی سرگرمیوں میں ملوث کیا گیا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور مزید تحقیقات ضروری ہیں۔
موبائل فون سے مبینہ رابطوں کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران لڑکی کی والدہ کے موبائل فون میں مبینہ ایجنٹ حارث کے ساتھ واٹس ایپ گفتگو سامنے آئی۔ ان پیغامات میں ویزوں، فضائی ٹکٹوں اور سفری اخراجات کے انتظامات سے متعلق تبادلہ خیال موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گفتگو میں لڑکیوں کی آمدن ماہانہ چھ لاکھ روپے تک بڑھانے اور دیگر لڑکیوں سے متعلق معاملات کا ذکر تھا۔ تاہم، ان پیغامات کے اصل مفہوم، صداقت اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں سے تعلق کا تعین ڈیجیٹل شواہد کے فارنزک تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
مبینہ مالی لین دین کی تحقیقات
دستیاب معلومات کے مطابق، مبینہ ایجنٹ نے مسافروں کے سفری انتظامات کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔ لڑکی کی والدہ کے موبائل فون میں چار لاکھ روپے کی بینک ٹرانزیکشن کی رسید ملنے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے مطابق رقم مبینہ طور پر ان کے والد مقصود علی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی۔
حکام کے لیے اس مالی لین دین کے مقصد، متعلقہ بینک اکاؤنٹس، ٹریول ایجنسی اور مبینہ ایجنٹ کے کردار کی مزید جانچ ضروری قرار دی گئی ہے۔
ایف آئی اے کی مزید کارروائی
معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر تینوں خواتین کو مزید تصدیق، ڈیجیٹل شواہد کے فارنزک تجزیے اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (AHTC) کے متعلقہ حکام کے حوالے کرنے کی کارروائی کی گئی۔
حکام کی جانب سے دیگر ممکنہ متاثرہ لڑکیوں کی شناخت، سابقہ سفری انتظامات، مالی روابط اور اس معاملے میں والدین سمیت تمام متعلقہ افراد کے کردار کی تحقیقات بھی ضروری قرار دی گئی ہیں۔
اہم وضاحت: یہ معاملہ فی الحال مبینہ انسانی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکی کے ممکنہ جنسی استحصال سے متعلق الزامات اور خدشات پر مبنی ہے۔ تمام الزامات کی تصدیق تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا باقی ہے۔ کسی بھی شخص کے جرم میں ملوث ہونے کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں