پاکستان
پاکستان کو 12 صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز زیرِ غور، 28ویں آئینی ترمیم سے قبل ملک گیر ریفرنڈم کا امکان
08-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
30 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی ایک تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت ملک کے چاروں موجودہ صوبوں کو تقسیم کرکے مجموعی طور پر 12 صوبے بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دی نیوز کے صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت پنجاب کو چار، خیبر پختونخوا کو تین، بلوچستان کو تین جبکہ سندھ کو دو صوبوں میں تقسیم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک میں طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانا، انتظامی امور کو مؤثر بنانا، عوام کو سرکاری سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنا اور ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم سے قبل ملک گیر ریفرنڈم کرانے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق عوامی رائے حاصل کی جا سکے گی تاکہ اس اہم معاملے پر وسیع تر عوامی حمایت اور اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز پر ابتدائی غور و خوض جاری ہے اور 2027ء کی پہلی ششماہی میں آئینی ترمیم کی جانب عملی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی قانونی اور انتظامی تیاریوں پر بھی کام متوقع ہے۔ تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومت عوام کے زیادہ قریب آئے گی، مقامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی اور پسماندہ علاقوں تک ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی بہتر فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور نئے صوبوں کی حدود، دارالحکومتوں، اختیارات اور وسائل کی تقسیم سمیت کسی بھی معاملے پر حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ لہٰذا فی الحال اسے ایک زیرِ غور تجویز ہی سمجھا جائے، نئے صوبوں کے قیام کا باضابطہ اعلان نہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں