پاکستان
سینئر صحافی حامد میر کا اہم انکشاف: مولانا فضل الرحمان بھی عمران خان کی رہائی کے مطالبے میں شامل
22-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
سینئر صحافی حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مولانا فضل الرحمان بھی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔
حامد میر کے مطابق وہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان دونوں کو 1988ء سے جانتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنے ہی مقرر کردہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کو کرپشن کے الزامات عائد کرکے برطرف کر دیا تھا۔
حامد میر لکھتے ہیں کہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے اپنی جماعت مسلم لیگ کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کا ساتھ دینے کے بجائے جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا۔
ان کے مطابق، جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیاء الحق نے نئی حکومت میں عمران خان کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان 1987ء میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے تھے، تاہم جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لی تھی۔
حامد میر کے بقول، جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ اگر عمران خان نئی حکومت میں شامل ہو جائیں تو اس سے ان کی متاثرہ سیاسی ساکھ کو کافی سہارا مل سکتا ہے۔
حامد میر کے مطابق وہ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان دونوں کو 1988ء سے جانتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنے ہی مقرر کردہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کو کرپشن کے الزامات عائد کرکے برطرف کر دیا تھا۔
حامد میر لکھتے ہیں کہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے اپنی جماعت مسلم لیگ کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کا ساتھ دینے کے بجائے جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا۔
ان کے مطابق، جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیاء الحق نے نئی حکومت میں عمران خان کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمران خان 1987ء میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے تھے، تاہم جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لی تھی۔
حامد میر کے بقول، جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ اگر عمران خان نئی حکومت میں شامل ہو جائیں تو اس سے ان کی متاثرہ سیاسی ساکھ کو کافی سہارا مل سکتا ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں