پاکستان
یونیسف کی تشویش ناک رپورٹ: ایک سال میں تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچے آن لائن جنسی ہراسانی کا شکار
18-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
22 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف (UNICEF) کے مطابق، تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچوں کو ایک سال کے دوران انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ بچوں میں سے 57 فیصد نے شرمندگی، خاندانی ردِعمل اور بدنامی کے خوف کے باعث کسی کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں نہیں بتایا۔
مصنوعی ذہانت سے بچوں کی جعلی تصاویر بنانے کا خطرہ
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بچوں کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کو ایک ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ یونیسف نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک غیر محدود رسائی دینے کے بجائے ان کی آن لائن سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں۔
سوشل میڈیا اور جان پہچان کے افراد سے خطرات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے واقعات میں سوشل میڈیا کا حصہ 44 فیصد تھا، جبکہ متاثرہ بچوں کے بیان کردہ 85 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم ان کا جان پہچان والا شخص تھا۔
یونیسف کے مطابق، بچوں کو نامناسب تصاویر اور پیغامات بھیجنا، ان سے نجی تصاویر طلب کرنا، تصاویر کو ان کی اجازت کے بغیر پھیلانا اور بلیک میل کرنا آن لائن جنسی ہراسانی کی اہم صورتیں ہیں۔
بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات پر زور
یونیسف نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قانونی نظام کی خامیاں دور کرنے، تحقیقات کے عمل کو بہتر بنانے اور بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو شکایات درج کرانے کے لیے محفوظ، قابلِ اعتماد اور آسان ذرائع فراہم کیے جائیں، تاکہ بچے خوف اور بدنامی کے خدشات کے بغیر مدد حاصل کر سکیں۔
بچوں کا آن لائن تحفظ والدین، تعلیمی اداروں، متعلقہ حکام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ بچوں میں سے 57 فیصد نے شرمندگی، خاندانی ردِعمل اور بدنامی کے خوف کے باعث کسی کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں نہیں بتایا۔
مصنوعی ذہانت سے بچوں کی جعلی تصاویر بنانے کا خطرہ
رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بچوں کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کو ایک ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ یونیسف نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک غیر محدود رسائی دینے کے بجائے ان کی آن لائن سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کریں۔
سوشل میڈیا اور جان پہچان کے افراد سے خطرات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے واقعات میں سوشل میڈیا کا حصہ 44 فیصد تھا، جبکہ متاثرہ بچوں کے بیان کردہ 85 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم ان کا جان پہچان والا شخص تھا۔
یونیسف کے مطابق، بچوں کو نامناسب تصاویر اور پیغامات بھیجنا، ان سے نجی تصاویر طلب کرنا، تصاویر کو ان کی اجازت کے بغیر پھیلانا اور بلیک میل کرنا آن لائن جنسی ہراسانی کی اہم صورتیں ہیں۔
بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات پر زور
یونیسف نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قانونی نظام کی خامیاں دور کرنے، تحقیقات کے عمل کو بہتر بنانے اور بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو شکایات درج کرانے کے لیے محفوظ، قابلِ اعتماد اور آسان ذرائع فراہم کیے جائیں، تاکہ بچے خوف اور بدنامی کے خدشات کے بغیر مدد حاصل کر سکیں۔
بچوں کا آن لائن تحفظ والدین، تعلیمی اداروں، متعلقہ حکام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں