بریکنگ نیوز
خیبر پختونخوا میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خلاف بڑا اقدام، اگلے ہفتے سے 5 جدید موبائل ڈرگ اسکریننگ لیبارٹریز فعال کرنے کا فیصلہ
07-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کی مارکیٹوں میں غیر معیاری، جعلی اور مشکوک ادویات کی فروخت کی روک تھام اور ادویات کے معیار کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کے لیے پانچ جدید موبائل ڈرگ اسکریننگ لیبارٹریز متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ موبائل لیبارٹریز اگلے ہفتے سے اپنی خدمات کا آغاز کریں گی۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے صحت و آبادی نگار جوہر خان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادویات کی جانچ کے لیے تیار کی گئی جدید موبائل لیبارٹری وینز کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر مشیر صحت کو ڈائریکٹوریٹ کے مختلف شعبوں کی کارکردگی، ادویات کے معیار کی نگرانی اور عوام کو محفوظ و معیاری ادویات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سرکاری حکام کے مطابق پانچوں موبائل لیبارٹریز جدید سائنسی آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن میں ایف ٹی آئی آر (FTIR) اور رمن (Raman) ٹیکنالوجی شامل ہے۔ ان آلات کی مدد سے ڈرگ انسپکٹرز مارکیٹوں، میڈیکل اسٹورز اور دیگر مقامات پر ہی ادویات کی کیمیائی ساخت، اجزا اور معیار کی ابتدائی جانچ کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق ان موبائل لیبارٹریز کو خیبر پختونخوا کے تمام ڈویژنز میں تعینات کیا جائے گا، جس سے ادویات کی نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنانے اور مشکوک ادویات کی بروقت نشاندہی میں مدد ملے گی۔
اگر کسی دوا کی ابتدائی اسکریننگ کے دوران اس کے غیر معیاری یا مشکوک ہونے کا شبہ سامنے آیا تو ڈرگ انسپکٹرز اس کے نمونے حاصل کرکے پشاور کی مرکزی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) بھجوائیں گے، جہاں ان کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کیا جائے گا اور نتائج کی روشنی میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پانچوں موبائل ڈرگ اسکریننگ لیبارٹریز کا باضابطہ افتتاح منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں کیا جائے گا۔
اس اقدام کو صوبے میں ادویات کے معیار کی نگرانی بہتر بنانے، جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام اور شہریوں کو محفوظ ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: روزنامہ ڈان
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے صحت و آبادی نگار جوہر خان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادویات کی جانچ کے لیے تیار کی گئی جدید موبائل لیبارٹری وینز کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر مشیر صحت کو ڈائریکٹوریٹ کے مختلف شعبوں کی کارکردگی، ادویات کے معیار کی نگرانی اور عوام کو محفوظ و معیاری ادویات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سرکاری حکام کے مطابق پانچوں موبائل لیبارٹریز جدید سائنسی آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن میں ایف ٹی آئی آر (FTIR) اور رمن (Raman) ٹیکنالوجی شامل ہے۔ ان آلات کی مدد سے ڈرگ انسپکٹرز مارکیٹوں، میڈیکل اسٹورز اور دیگر مقامات پر ہی ادویات کی کیمیائی ساخت، اجزا اور معیار کی ابتدائی جانچ کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق ان موبائل لیبارٹریز کو خیبر پختونخوا کے تمام ڈویژنز میں تعینات کیا جائے گا، جس سے ادویات کی نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنانے اور مشکوک ادویات کی بروقت نشاندہی میں مدد ملے گی۔
اگر کسی دوا کی ابتدائی اسکریننگ کے دوران اس کے غیر معیاری یا مشکوک ہونے کا شبہ سامنے آیا تو ڈرگ انسپکٹرز اس کے نمونے حاصل کرکے پشاور کی مرکزی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (DTL) بھجوائیں گے، جہاں ان کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کیا جائے گا اور نتائج کی روشنی میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پانچوں موبائل ڈرگ اسکریننگ لیبارٹریز کا باضابطہ افتتاح منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں کیا جائے گا۔
اس اقدام کو صوبے میں ادویات کے معیار کی نگرانی بہتر بنانے، جعلی اور غیر معیاری ادویات کی روک تھام اور شہریوں کو محفوظ ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: روزنامہ ڈان
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں