بریکنگ نیوز
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ عادل شہباز کا بڑا دعویٰ، فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع
10-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
21 وزٹ
Read in English
پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ صحافی عادل شہباز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلہ قریب ہے اور آئندہ ایک سے دو روز کے دوران اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
عادل شہباز کے مطابق، مجوزہ انتظامی سیٹ اپ کی تیاری تقریباً مکمل ہو چکی ہے، جبکہ نئی کابینہ میں ٹیکنوکریٹس کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی تاحال کسی سرکاری ذریعے سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
فیصل کریم کنڈی کے کردار میں اضافے کا امکان
صحافی کے دعوے کے مطابق، اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی صوبے کے انتظامی معاملات میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، مجوزہ کابینہ میں غیر سیاسی ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کو شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور ان افراد کے انتخاب کا عمل تقریباً مکمل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سابقہ قبائلی اضلاع سے متعلق بھی اہم دعویٰ
عادل شہباز نے اپنے بیان میں سابقہ قبائلی اضلاع کے حوالے سے بھی ایک الگ انتظامی سیٹ اپ اور ایمرجنسی کے امکانات کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے نہ تو کسی باضابطہ حکومتی منصوبے کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری نوٹیفکیشن کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
کابینہ میں اہم سیاسی شخصیت کی شمولیت کی قیاس آرائی
صحافی نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ کابینہ میں ایک بااثر اور مضبوط سیاسی شخصیت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی ممکنہ کابینہ کے ارکان کی کوئی تصدیق شدہ فہرست سامنے آئی ہے۔
حتمی فیصلہ حکومتی قیادت کرے گی
عادل شہباز کے مطابق، مجوزہ سیٹ اپ تیار ہے، تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ فیصلہ سازوں نے کرنا ہے اور آخری مرحلے پر تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔
دوسری جانب، 10 اکتوبر کو شائع ہونے والی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا اور معاملہ وفاقی حکومت کے فیصلے سے واضح ہوگا۔ <Cite refs={["turn213464search1"]}/>
اہم وضاحت: گورنر راج کے ممکنہ نفاذ، ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ، سابقہ قبائلی اضلاع میں الگ انتظامی سیٹ اپ اور آئندہ 48 گھنٹوں میں فیصلے سے متعلق اطلاعات فی الحال صحافی عادل شہباز سے منسوب دعوے ہیں۔ انہیں حتمی حکومتی فیصلے یا مصدقہ خبر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
عادل شہباز کے مطابق، مجوزہ انتظامی سیٹ اپ کی تیاری تقریباً مکمل ہو چکی ہے، جبکہ نئی کابینہ میں ٹیکنوکریٹس کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی تاحال کسی سرکاری ذریعے سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
فیصل کریم کنڈی کے کردار میں اضافے کا امکان
صحافی کے دعوے کے مطابق، اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی صوبے کے انتظامی معاملات میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق، مجوزہ کابینہ میں غیر سیاسی ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کو شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور ان افراد کے انتخاب کا عمل تقریباً مکمل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سابقہ قبائلی اضلاع سے متعلق بھی اہم دعویٰ
عادل شہباز نے اپنے بیان میں سابقہ قبائلی اضلاع کے حوالے سے بھی ایک الگ انتظامی سیٹ اپ اور ایمرجنسی کے امکانات کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے نہ تو کسی باضابطہ حکومتی منصوبے کی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سرکاری نوٹیفکیشن کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
کابینہ میں اہم سیاسی شخصیت کی شمولیت کی قیاس آرائی
صحافی نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ کابینہ میں ایک بااثر اور مضبوط سیاسی شخصیت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی ممکنہ کابینہ کے ارکان کی کوئی تصدیق شدہ فہرست سامنے آئی ہے۔
حتمی فیصلہ حکومتی قیادت کرے گی
عادل شہباز کے مطابق، مجوزہ سیٹ اپ تیار ہے، تاہم حتمی فیصلہ متعلقہ فیصلہ سازوں نے کرنا ہے اور آخری مرحلے پر تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔
دوسری جانب، 10 اکتوبر کو شائع ہونے والی اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا اور معاملہ وفاقی حکومت کے فیصلے سے واضح ہوگا۔ <Cite refs={["turn213464search1"]}/>
اہم وضاحت: گورنر راج کے ممکنہ نفاذ، ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ، سابقہ قبائلی اضلاع میں الگ انتظامی سیٹ اپ اور آئندہ 48 گھنٹوں میں فیصلے سے متعلق اطلاعات فی الحال صحافی عادل شہباز سے منسوب دعوے ہیں۔ انہیں حتمی حکومتی فیصلے یا مصدقہ خبر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں