بریکنگ نیوز
پی ٹی آئی کا باضابطہ اعلان، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا برقرار، تبدیلی سے متعلق بحث پر پابندی
30-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
32 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخوا میں وزارتِ اعلیٰ کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں اور اندرونی بحث کو ختم کرنے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کے نگران چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق فیصلے کا اختیار صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس رکھنے کی وضاحت کی گئی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عمران خان کے علاوہ پارٹی کے کسی دوسرے رہنما یا عہدیدار کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے متبادل امیدوار کی نامزدگی یا اس حوالے سے پہلے سے کیے گئے فیصلے میں تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے تحت پارٹی کے رہنماؤں اور ارکان کو وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر اجلاس بلانے، متبادل نام تجویز کرنے یا اس موضوع پر باقاعدہ بحث کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تبدیلی کا فیصلہ صرف پارٹی بانی عمران خان کی منظوری سے ہی کیا جا سکے گا۔ پارٹی قیادت نے اس اقدام کے ذریعے وزیراعلیٰ کے عہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ متبادل ناموں کے حوالے سے جاری بحث کو روکنے کی کوشش کی ہے۔
وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں کیوں شروع ہوئیں؟
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال میں غیر معمولی تبدیلیوں کے باعث وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل اور صوبے کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کے بعد پی ٹی آئی کے اندر وزارتِ اعلیٰ کے ممکنہ متبادل اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی سے متعلق بحث جاری تھی۔
اسی صورتحال میں بعض حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور متبادل امیدواروں کے ناموں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی تھیں۔ تاہم پارٹی کے تازہ نوٹیفکیشن نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے فیصلہ سازی کا اختیار عمران خان تک محدود کر دیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے انتظامی امور اور ایڈوائزری کونسل
دوسری جانب فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جو گورنر کو صوبے کے انتظامی امور میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں صوبائی انتظامی معاملات، حکومتی اختیارات اور پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے سے متعلق پارٹی کے مؤقف کی باضابطہ وضاحت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی توجہ اب صوبے کی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز رہے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق کسی بھی آئندہ فیصلے کا اختیار پارٹی نوٹیفکیشن کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس ہوگا، جبکہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عمران خان کے علاوہ پارٹی کے کسی دوسرے رہنما یا عہدیدار کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے متبادل امیدوار کی نامزدگی یا اس حوالے سے پہلے سے کیے گئے فیصلے میں تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے تحت پارٹی کے رہنماؤں اور ارکان کو وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر اجلاس بلانے، متبادل نام تجویز کرنے یا اس موضوع پر باقاعدہ بحث کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی تبدیلی کا فیصلہ صرف پارٹی بانی عمران خان کی منظوری سے ہی کیا جا سکے گا۔ پارٹی قیادت نے اس اقدام کے ذریعے وزیراعلیٰ کے عہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ متبادل ناموں کے حوالے سے جاری بحث کو روکنے کی کوشش کی ہے۔
وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں کیوں شروع ہوئیں؟
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال میں غیر معمولی تبدیلیوں کے باعث وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل اور صوبے کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کے بعد پی ٹی آئی کے اندر وزارتِ اعلیٰ کے ممکنہ متبادل اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی سے متعلق بحث جاری تھی۔
اسی صورتحال میں بعض حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور متبادل امیدواروں کے ناموں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی تھیں۔ تاہم پارٹی کے تازہ نوٹیفکیشن نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے فیصلہ سازی کا اختیار عمران خان تک محدود کر دیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے انتظامی امور اور ایڈوائزری کونسل
دوسری جانب فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل بھی قائم کی گئی ہے، جو گورنر کو صوبے کے انتظامی امور میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں صوبائی انتظامی معاملات، حکومتی اختیارات اور پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے سے متعلق پارٹی کے مؤقف کی باضابطہ وضاحت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی توجہ اب صوبے کی سیاسی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل پر مرکوز رہے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق کسی بھی آئندہ فیصلے کا اختیار پارٹی نوٹیفکیشن کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس ہوگا، جبکہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں