ضلع کی خبریں
ایبٹ آباد: نواں شہر میں منشیات فروشی کے مبینہ کاروبار پر شہریوں کا اظہارِ تشویش، پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے
07-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
ایبٹ آباد (پریس ریلیز): ایبٹ آباد کے علاقے نواں شہر میں آئس، چرس اور دیگر منشیات کے مبینہ کاروبار میں اضافے کے حوالے سے مقامی رہائشیوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقے میں منشیات فروشی کی سرگرمیاں نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
مقامی شہریوں کے مطابق نواں شہر میں مبینہ طور پر منشیات فروشی کے مختلف نیٹ ورکس سرگرم ہیں، جن کے ذریعے آئس، چرس اور دیگر منشیات کی خرید و فروخت کی جا رہی ہے۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف عام شہری پریشان ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے طلبہ اور کم عمر بچوں کے منشیات کی جانب راغب ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ بعض بااثر افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث مبینہ منشیات فروشوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق پولیس، ڈسٹرکٹ سیکیورٹی اور سادہ لباس میں تعینات متعلقہ اہلکاروں کو بھی اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں پولیس و انتظامیہ کو مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ڈی آئی جی ہزارہ ریجن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نواں شہر میں منشیات فروشی کے خلاف خصوصی اور بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیں۔
شہریوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف خصوصی نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ طلبہ کو منشیات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
شکایت کنندگان نے متعلقہ تھانوں میں منشیات کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ریکارڈ چیک کرنے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا مبینہ سرپرستی سامنے آئے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے کر انتظامی فیصلے کیے جائیں۔
شہریوں کے مطابق منشیات کا پھیلاؤ صرف چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام پر زور دیا کہ نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مقامی شہریوں کے مطابق نواں شہر میں مبینہ طور پر منشیات فروشی کے مختلف نیٹ ورکس سرگرم ہیں، جن کے ذریعے آئس، چرس اور دیگر منشیات کی خرید و فروخت کی جا رہی ہے۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف عام شہری پریشان ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے طلبہ اور کم عمر بچوں کے منشیات کی جانب راغب ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ بعض بااثر افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث مبینہ منشیات فروشوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق پولیس، ڈسٹرکٹ سیکیورٹی اور سادہ لباس میں تعینات متعلقہ اہلکاروں کو بھی اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں پولیس و انتظامیہ کو مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ڈی آئی جی ہزارہ ریجن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نواں شہر میں منشیات فروشی کے خلاف خصوصی اور بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیں۔
شہریوں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف خصوصی نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ طلبہ کو منشیات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
شکایت کنندگان نے متعلقہ تھانوں میں منشیات کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ریکارڈ چیک کرنے اور اگر کسی اہلکار کی غفلت یا مبینہ سرپرستی سامنے آئے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے کر انتظامی فیصلے کیے جائیں۔
شہریوں کے مطابق منشیات کا پھیلاؤ صرف چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام پر زور دیا کہ نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں