ہزارہ
مسلم لیگ (ن) کے رہنما بابر نواز خان کی پی ٹی آئی قیادت پر تنقید، خیبر پختونخوا میں امن و امان سے متعلق سوالات اٹھا دیے
26-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
پشاور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بابر نواز خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔
بابر نواز خان نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا:
”کدھر گئے گیدڑ؟ سوری سوری معذرت، کدھر گئے وہ لیڈر جو سر پہ کفن باندھ کے نکلے تھے؟“
ان کے اس بیان کو پی ٹی آئی قیادت کے سابقہ دعوؤں اور مشکلات کا سامنا کرنے کے عزم پر طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سوال
بابر نواز خان نے اپنی پوسٹ میں صوبے کو درپیش دہشت گردی اور جرائم کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھا:
”کون بچائے گا دہشت گردوں اور چوروں سے خیبر پختونخوا؟ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف و فیلڈ مارشل / آرمی چیف سید عاصم منیر“
ان کے بیان میں خیبر پختونخوا میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ذمہ داری کے حوالے سے سیاسی بحث کو اجاگر کیا گیا ہے۔
بابر نواز خان کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات کے تناظر میں صوبے کی سیکیورٹی اور حکمرانی کے معاملات ایک بار پھر زیرِ بحث آگئے ہیں۔
بابر نواز خان نے طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا:
”کدھر گئے گیدڑ؟ سوری سوری معذرت، کدھر گئے وہ لیڈر جو سر پہ کفن باندھ کے نکلے تھے؟“
ان کے اس بیان کو پی ٹی آئی قیادت کے سابقہ دعوؤں اور مشکلات کا سامنا کرنے کے عزم پر طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سوال
بابر نواز خان نے اپنی پوسٹ میں صوبے کو درپیش دہشت گردی اور جرائم کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھا:
”کون بچائے گا دہشت گردوں اور چوروں سے خیبر پختونخوا؟ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف و فیلڈ مارشل / آرمی چیف سید عاصم منیر“
ان کے بیان میں خیبر پختونخوا میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ذمہ داری کے حوالے سے سیاسی بحث کو اجاگر کیا گیا ہے۔
بابر نواز خان کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات کے تناظر میں صوبے کی سیکیورٹی اور حکمرانی کے معاملات ایک بار پھر زیرِ بحث آگئے ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں