مقامی خبریں
عمر نواز خان کا سوشل میڈیا پروپیگنڈے پر وضاحتی بیان، ’’ظلم کا ساتھ نہیں دوں گا، مظلوم کی آواز بنوں گا‘‘
30-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
31 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر نواز خان نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف جاری مبینہ منفی پروپیگنڈے اور ایک واقعے کے ساتھ ان کا نام جوڑے جانے پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سیاست ہمیشہ شرافت، اخلاق، سچائی اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت ظلم کا ساتھ نہیں دیں گے، چاہے اس میں ملوث شخص ان کا قریبی عزیز، رشتہ دار یا ان کے اپنے گاؤں سے تعلق رکھنے والا ہی کیوں نہ ہو۔
اپنے بیان میں عمر نواز خان نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سیاست میں شائستگی، اخلاق اور ایک دوسرے کے احترام کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی یا نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ہر اس شخص کا احترام کیا جانا چاہیے جو شرافت اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
سوشل میڈیا پر منفی مہم کی تردید
عمر نواز خان نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور ان کا نام ایک ایسے واقعے کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ضروری سمجھا کہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف واضح کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم نہ کی جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص کے خلاف الزامات عائد کرنے یا کسی واقعے میں اس کا نام شامل کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس، تبصروں یا الزامات کو حتمی حقیقت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
ظلم کے خلاف دوٹوک مؤقف، مظلوم کا ساتھ دینے کا عزم
اپنے بیان کے اہم حصے میں عمر نواز خان نے کہا کہ ان کی سیاست اور ذاتی اصولوں میں انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا:
’اگر ظالم میرا سگا بھائی، میرے گاؤں کا رہائشی، میرا رشتہ دار یا کوئی بھی قریبی شخص ہو، تب بھی میں ظلم کا ساتھ نہیں دوں گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اس کی آواز بنیں گے، چاہے متاثرہ شخص کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت، قوم، خاندان یا علاقے سے ہو۔ ان کے مطابق یہ کوئی نیا مؤقف نہیں بلکہ ان کی سیاست اور زندگی کا ہمیشہ سے بنیادی اصول رہا ہے، جس پر وہ آئندہ بھی قائم رہیں گے۔
عمر نواز خان نے کہا کہ انصاف اور حق کی حمایت کسی سیاسی وابستگی یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی شخص کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کے حق میں آواز بلند کرنا ہر ذمہ دار شہری کا اخلاقی فرض ہے۔
حقائق اور مستند شواہد کی اہمیت پر زور
پی ٹی آئی رہنما نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی معاملے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے تمام حقائق سامنے لائے جائیں اور دعووں کے ساتھ واضح اور مستند شواہد بھی پیش کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ظلم، زیادتی یا ناانصافی سے متعلق قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہیں تو انہیں متعلقہ فورم پر سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ معاملے کی حقیقت واضح ہو سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی کے ساتھ حق پر ہونے کے باوجود ناانصافی ہوئی ہے تو وہ اس کی آواز بننے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سوشل میڈیا صارفین سے مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل
عمر نواز خان نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو مثبت مقاصد، حق اور سچ کی آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ان کے مطابق کسی کی کردار کشی، گالم گلوچ اور بغیر تحقیق کے منفی پروپیگنڈا پھیلانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کرتے وقت ہر شخص کو اپنے الفاظ اور رویے کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ انسان کو اپنے اعمال اور الفاظ کا حساب اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر عمر نواز خان نے کہا کہ ان کی سیاست نفرت کے بجائے شرافت، جھوٹ کے بجائے سچائی اور ظلم کے بجائے انصاف پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان اصولوں پر قائم رہیں گے اور کسی بھی صورت حق و انصاف کا ساتھ دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اپنے بیان میں عمر نواز خان نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سیاست میں شائستگی، اخلاق اور ایک دوسرے کے احترام کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی یا نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ہر اس شخص کا احترام کیا جانا چاہیے جو شرافت اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔
سوشل میڈیا پر منفی مہم کی تردید
عمر نواز خان نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور ان کا نام ایک ایسے واقعے کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ضروری سمجھا کہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف واضح کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم نہ کی جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی شخص کے خلاف الزامات عائد کرنے یا کسی واقعے میں اس کا نام شامل کرنے سے پہلے حقائق کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس، تبصروں یا الزامات کو حتمی حقیقت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
ظلم کے خلاف دوٹوک مؤقف، مظلوم کا ساتھ دینے کا عزم
اپنے بیان کے اہم حصے میں عمر نواز خان نے کہا کہ ان کی سیاست اور ذاتی اصولوں میں انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا:
’اگر ظالم میرا سگا بھائی، میرے گاؤں کا رہائشی، میرا رشتہ دار یا کوئی بھی قریبی شخص ہو، تب بھی میں ظلم کا ساتھ نہیں دوں گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اس کی آواز بنیں گے، چاہے متاثرہ شخص کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت، قوم، خاندان یا علاقے سے ہو۔ ان کے مطابق یہ کوئی نیا مؤقف نہیں بلکہ ان کی سیاست اور زندگی کا ہمیشہ سے بنیادی اصول رہا ہے، جس پر وہ آئندہ بھی قائم رہیں گے۔
عمر نواز خان نے کہا کہ انصاف اور حق کی حمایت کسی سیاسی وابستگی یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کسی شخص کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کے حق میں آواز بلند کرنا ہر ذمہ دار شہری کا اخلاقی فرض ہے۔
حقائق اور مستند شواہد کی اہمیت پر زور
پی ٹی آئی رہنما نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی معاملے میں حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے تمام حقائق سامنے لائے جائیں اور دعووں کے ساتھ واضح اور مستند شواہد بھی پیش کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ظلم، زیادتی یا ناانصافی سے متعلق قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہیں تو انہیں متعلقہ فورم پر سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ معاملے کی حقیقت واضح ہو سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی کے ساتھ حق پر ہونے کے باوجود ناانصافی ہوئی ہے تو وہ اس کی آواز بننے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سوشل میڈیا صارفین سے مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل
عمر نواز خان نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس پلیٹ فارم کو مثبت مقاصد، حق اور سچ کی آواز بلند کرنے کے لیے استعمال کریں۔ ان کے مطابق کسی کی کردار کشی، گالم گلوچ اور بغیر تحقیق کے منفی پروپیگنڈا پھیلانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے کرتے وقت ہر شخص کو اپنے الفاظ اور رویے کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ انسان کو اپنے اعمال اور الفاظ کا حساب اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر عمر نواز خان نے کہا کہ ان کی سیاست نفرت کے بجائے شرافت، جھوٹ کے بجائے سچائی اور ظلم کے بجائے انصاف پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ان اصولوں پر قائم رہیں گے اور کسی بھی صورت حق و انصاف کا ساتھ دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں