مقامی خبریں
شاہراہِ ریشم کے فٹ پاتھ: آخر عوام کب تک انتظار کریں گے؟
02-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
33 وزٹ
Read in English
تحریر: ایک شہری کی آواز
مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم شہر کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد اس سڑک سے گزرتے ہیں۔ کوئی اپنے کام پر جا رہا ہوتا ہے، کوئی تعلیمی اداروں کا رخ کرتا ہے، کوئی خریداری کے لیے بازار آتا ہے اور کوئی اپنے روزمرہ کے معاملات نمٹانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔ لیکن اس مصروف شاہراہ پر پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب فٹ پاتھوں کی عدم دستیابی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس شہر کے شہریوں کو سڑک پر محفوظ طریقے سے پیدل چلنے کا حق حاصل نہیں؟ کیا بچوں، بچیوں، بزرگوں اور کام کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری نہیں؟
فٹ پاتھ کسی شہر کی خوبصورتی کے لیے محض اضافی تعمیر نہیں ہوتے، بلکہ شہری سہولیات کا بنیادی حصہ ہیں۔ ترقی یافتہ شہروں میں سڑکوں کی منصوبہ بندی کے دوران پیدل چلنے والوں کی ضروریات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، مگر مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم پر صورتِ حال یہ ہے کہ پیدل چلنے والوں کو اکثر ٹریفک کے درمیان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف مشکلات پیدا ہوتی ہیں بلکہ حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
خصوصاً اسکول جانے والے بچوں اور بچیوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے یہ صورتِ حال مزید پریشان کن ہے۔ ایک والدین کی حیثیت سے کون چاہے گا کہ ان کے بچے محفوظ فٹ پاتھ کے بجائے مصروف سڑک پر چلنے پر مجبور ہوں؟
یہ مسئلہ کسی ایک فرد، جماعت یا مخصوص طبقے کا نہیں، بلکہ پورے شہر کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اسی لیے اس مطالبے کو عوامی حمایت اور اجتماعی آواز کی ضرورت ہے۔ مانسہرہ کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس بنیادی سہولت کے حصول کے لیے پُرامن اور مثبت انداز میں اپنی آواز بلند کریں۔
میری ایک تجویز ہے کہ کسی ویک اینڈ پر سردار یوسف صاحب اور کیپٹن صفدر صاحب کو دعوت دی جائے کہ وہ ہمارے ساتھ ٹاؤن شپ سے مدنی مسجد تک پیدل سفر کریں۔ اس موقع پر عوامی نمائندے، مقامی شہری اور سماجی شخصیات بھی شریک ہوں۔ انہیں کسی دفتر میں بیٹھ کر بریفنگ دینے کے بجائے خود اس راستے پر پیدل چل کر صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔
ہم چاہتے ہیں کہ منتخب نمائندے خود دیکھیں کہ شاہراہِ ریشم پر فٹ پاتھوں کی ضرورت کتنی شدید ہے اور عام شہری روزانہ کن مشکلات سے گزرتے ہیں۔ اگر اس مختصر پیدل سفر کے بعد انہیں محسوس ہو کہ فٹ پاتھوں کی ضرورت نہیں تو کم از کم عوام کو اپنی بات براہِ راست پہنچانے کا موقع ضرور مل جائے گا۔ لیکن اگر وہ بھی اس ضرورت کو محسوس کریں تو پھر اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہییں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے منتخب نمائندوں کو عزت، اختیار اور عوام کی خدمت کا موقع عطا کیا ہے۔ ان اختیارات کا بہترین استعمال یہی ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ عوامی خدمت صرف بیانات، اعلانات اور تقریبات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کے نتائج شہریوں کی روزمرہ زندگی میں نظر آنے چاہییں۔
ہم متعلقہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ ہائی ویز اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت تمام ذمہ دار اداروں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ شاہراہِ ریشم پر ٹاؤن شپ سے لاری اڈہ تک فٹ پاتھوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبے میں پیدل چلنے والوں کی ضروریات، دکانوں کے سامنے راستوں کی دستیابی، تجاوزات کی روک تھام اور فٹ پاتھوں کی مستقل دیکھ بھال کو بھی شامل کیا جائے۔
یہ مطالبہ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں۔ یہ ہمارے بچوں، بچیوں، خواتین، بزرگوں اور ہر اس شہری کے تحفظ کا معاملہ ہے جو روزانہ اس شاہراہ پر پیدل سفر کرتا ہے۔
مانسہرہ کے شہری بھی اس مطالبے کی حمایت کریں اور اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں، کیونکہ بنیادی شہری سہولیات کا حصول ہر شہری کا حق ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال: کیا ہم شاہراہِ ریشم پر فٹ پاتھوں کا خواب ہی دیکھتے رہیں گے، یا کبھی اس بنیادی عوامی ضرورت کو عملی شکل بھی دی جائے گی؟
ہمیں وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہییں۔ ہمیں اعلانات نہیں، محفوظ فٹ پاتھ چاہییں۔ اور ہمیں ایسی شاہراہِ ریشم چاہیے جہاں گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مناسب جگہ موجود ہو۔
مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم شہر کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد اس سڑک سے گزرتے ہیں۔ کوئی اپنے کام پر جا رہا ہوتا ہے، کوئی تعلیمی اداروں کا رخ کرتا ہے، کوئی خریداری کے لیے بازار آتا ہے اور کوئی اپنے روزمرہ کے معاملات نمٹانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔ لیکن اس مصروف شاہراہ پر پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب فٹ پاتھوں کی عدم دستیابی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس شہر کے شہریوں کو سڑک پر محفوظ طریقے سے پیدل چلنے کا حق حاصل نہیں؟ کیا بچوں، بچیوں، بزرگوں اور کام کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری نہیں؟
فٹ پاتھ کسی شہر کی خوبصورتی کے لیے محض اضافی تعمیر نہیں ہوتے، بلکہ شہری سہولیات کا بنیادی حصہ ہیں۔ ترقی یافتہ شہروں میں سڑکوں کی منصوبہ بندی کے دوران پیدل چلنے والوں کی ضروریات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، مگر مانسہرہ کی شاہراہِ ریشم پر صورتِ حال یہ ہے کہ پیدل چلنے والوں کو اکثر ٹریفک کے درمیان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف مشکلات پیدا ہوتی ہیں بلکہ حادثات کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
خصوصاً اسکول جانے والے بچوں اور بچیوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے یہ صورتِ حال مزید پریشان کن ہے۔ ایک والدین کی حیثیت سے کون چاہے گا کہ ان کے بچے محفوظ فٹ پاتھ کے بجائے مصروف سڑک پر چلنے پر مجبور ہوں؟
یہ مسئلہ کسی ایک فرد، جماعت یا مخصوص طبقے کا نہیں، بلکہ پورے شہر کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اسی لیے اس مطالبے کو عوامی حمایت اور اجتماعی آواز کی ضرورت ہے۔ مانسہرہ کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اس بنیادی سہولت کے حصول کے لیے پُرامن اور مثبت انداز میں اپنی آواز بلند کریں۔
میری ایک تجویز ہے کہ کسی ویک اینڈ پر سردار یوسف صاحب اور کیپٹن صفدر صاحب کو دعوت دی جائے کہ وہ ہمارے ساتھ ٹاؤن شپ سے مدنی مسجد تک پیدل سفر کریں۔ اس موقع پر عوامی نمائندے، مقامی شہری اور سماجی شخصیات بھی شریک ہوں۔ انہیں کسی دفتر میں بیٹھ کر بریفنگ دینے کے بجائے خود اس راستے پر پیدل چل کر صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔
ہم چاہتے ہیں کہ منتخب نمائندے خود دیکھیں کہ شاہراہِ ریشم پر فٹ پاتھوں کی ضرورت کتنی شدید ہے اور عام شہری روزانہ کن مشکلات سے گزرتے ہیں۔ اگر اس مختصر پیدل سفر کے بعد انہیں محسوس ہو کہ فٹ پاتھوں کی ضرورت نہیں تو کم از کم عوام کو اپنی بات براہِ راست پہنچانے کا موقع ضرور مل جائے گا۔ لیکن اگر وہ بھی اس ضرورت کو محسوس کریں تو پھر اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہییں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے منتخب نمائندوں کو عزت، اختیار اور عوام کی خدمت کا موقع عطا کیا ہے۔ ان اختیارات کا بہترین استعمال یہی ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ عوامی خدمت صرف بیانات، اعلانات اور تقریبات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کے نتائج شہریوں کی روزمرہ زندگی میں نظر آنے چاہییں۔
ہم متعلقہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ ہائی ویز اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت تمام ذمہ دار اداروں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ شاہراہِ ریشم پر ٹاؤن شپ سے لاری اڈہ تک فٹ پاتھوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبے میں پیدل چلنے والوں کی ضروریات، دکانوں کے سامنے راستوں کی دستیابی، تجاوزات کی روک تھام اور فٹ پاتھوں کی مستقل دیکھ بھال کو بھی شامل کیا جائے۔
یہ مطالبہ کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں۔ یہ ہمارے بچوں، بچیوں، خواتین، بزرگوں اور ہر اس شہری کے تحفظ کا معاملہ ہے جو روزانہ اس شاہراہ پر پیدل سفر کرتا ہے۔
مانسہرہ کے شہری بھی اس مطالبے کی حمایت کریں اور اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچائیں، کیونکہ بنیادی شہری سہولیات کا حصول ہر شہری کا حق ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال: کیا ہم شاہراہِ ریشم پر فٹ پاتھوں کا خواب ہی دیکھتے رہیں گے، یا کبھی اس بنیادی عوامی ضرورت کو عملی شکل بھی دی جائے گی؟
ہمیں وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہییں۔ ہمیں اعلانات نہیں، محفوظ فٹ پاتھ چاہییں۔ اور ہمیں ایسی شاہراہِ ریشم چاہیے جہاں گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مناسب جگہ موجود ہو۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں