پاکستان
2025 سے اب تک تقریباً 2 ہزار افراد ماورائے عدالت قتل، گزشتہ 6 ماہ میں ایک ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ، چیئرمین ایچ آر سی پی اسد اقبال بٹ
30-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے ملک میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2025 سے اب تک تقریباً 2 ہزار افراد ماورائے عدالت قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک ہزار افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے نام پر ایسے اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
سماء نیوز کے پروگرام میں اینکر پرسن ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے اسد اقبال بٹ نے بتایا کہ انسانی حقوق کمیشن کی سابقہ رپورٹ میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے 942 واقعات سامنے آئے تھے، جبکہ نئی رپورٹ میں یہ تعداد ایک ہزار بتائی گئی ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 2025 اور 2026 کے دوران تقریباً دو ہزار افراد ماورائے عدالت ہلاکتوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
چیئرمین ایچ آر سی پی نے کہا کہ جب ان کی رپورٹ کو غلط قرار دیا گیا تو انہوں نے متعلقہ حکام کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا کہا، کیونکہ ان کے بقول کمیشن کے پاس ان واقعات سے متعلق شواہد اور ایف آئی آرز موجود ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس طریقے سے ملک کا نظام چلایا جا سکتا ہے؟
اسد اقبال بٹ کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ماورائے عدالت کارروائیوں سے جرائم میں کمی آئے گی، لیکن ان کے مطابق اس طریقے سے جرائم مستقل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ وقتی طور پر جرائم کی شرح میں کمی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم بعد ازاں جرائم دوبارہ تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ ایسے اقدامات کے باوجود جرائم میں کمی کے بجائے صورتحال مزید خراب ہوئی اور انسانی جانوں کا ضیاع بڑھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ پولیس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ تفتیش اور قانونی کارروائی مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔ ان کے مطابق ماورائے عدالت قتل کے واقعات پولیس اور مجرم کے کردار کے درمیان فرق کو بھی سوالیہ نشان بنا دیتے ہیں۔
چیئرمین ایچ آر سی پی نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیا جائے گا تو پھر عدالتوں کو بند کر دینا چاہیے اور لوگوں کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ اگر کوئی انہیں تھپڑ مارے تو وہ بھی بدلے میں تھپڑ ماریں۔ اسی طرح اگر کوئی قتل کرے اور جواب میں دوسرا شخص بھی قتل کر دے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھیں گے۔
اسد اقبال بٹ کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالتی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے اور وہاں کام کی رفتار سمیت مختلف مسائل موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود عدالتیں شہریوں کے لیے انصاف کی امید اور سہارا ہیں۔ اگر کسی شخص کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اسے انصاف کے حصول کے لیے قانونی فورم دستیاب ہونا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے ماورائے عدالت اقدامات کے بجائے پولیس نظام کی بہتری، شفاف تحقیقات، قانون کی بالادستی اور عدالتی عمل کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔
اہم وضاحت: ماورائے عدالت ہلاکتوں کے تقریباً دو ہزار اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک ہزار واقعات کے اعدادوشمار چیئرمین ایچ آر سی پی اسد اقبال بٹ کے بیان اور ان سے منسوب رپورٹ پر مبنی ہیں۔ ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ رپورٹ کا اصل متن اور طریقۂ شمار دیکھنا ضروری ہے۔
سماء نیوز کے پروگرام میں اینکر پرسن ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے اسد اقبال بٹ نے بتایا کہ انسانی حقوق کمیشن کی سابقہ رپورٹ میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے 942 واقعات سامنے آئے تھے، جبکہ نئی رپورٹ میں یہ تعداد ایک ہزار بتائی گئی ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 2025 اور 2026 کے دوران تقریباً دو ہزار افراد ماورائے عدالت ہلاکتوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
چیئرمین ایچ آر سی پی نے کہا کہ جب ان کی رپورٹ کو غلط قرار دیا گیا تو انہوں نے متعلقہ حکام کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا کہا، کیونکہ ان کے بقول کمیشن کے پاس ان واقعات سے متعلق شواہد اور ایف آئی آرز موجود ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس طریقے سے ملک کا نظام چلایا جا سکتا ہے؟
اسد اقبال بٹ کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ماورائے عدالت کارروائیوں سے جرائم میں کمی آئے گی، لیکن ان کے مطابق اس طریقے سے جرائم مستقل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ وقتی طور پر جرائم کی شرح میں کمی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم بعد ازاں جرائم دوبارہ تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ ایسے اقدامات کے باوجود جرائم میں کمی کے بجائے صورتحال مزید خراب ہوئی اور انسانی جانوں کا ضیاع بڑھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ پولیس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ تفتیش اور قانونی کارروائی مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔ ان کے مطابق ماورائے عدالت قتل کے واقعات پولیس اور مجرم کے کردار کے درمیان فرق کو بھی سوالیہ نشان بنا دیتے ہیں۔
چیئرمین ایچ آر سی پی نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیا جائے گا تو پھر عدالتوں کو بند کر دینا چاہیے اور لوگوں کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ اگر کوئی انہیں تھپڑ مارے تو وہ بھی بدلے میں تھپڑ ماریں۔ اسی طرح اگر کوئی قتل کرے اور جواب میں دوسرا شخص بھی قتل کر دے تو اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھیں گے۔
اسد اقبال بٹ کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالتی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے اور وہاں کام کی رفتار سمیت مختلف مسائل موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود عدالتیں شہریوں کے لیے انصاف کی امید اور سہارا ہیں۔ اگر کسی شخص کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اسے انصاف کے حصول کے لیے قانونی فورم دستیاب ہونا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے ماورائے عدالت اقدامات کے بجائے پولیس نظام کی بہتری، شفاف تحقیقات، قانون کی بالادستی اور عدالتی عمل کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔
اہم وضاحت: ماورائے عدالت ہلاکتوں کے تقریباً دو ہزار اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک ہزار واقعات کے اعدادوشمار چیئرمین ایچ آر سی پی اسد اقبال بٹ کے بیان اور ان سے منسوب رپورٹ پر مبنی ہیں۔ ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ رپورٹ کا اصل متن اور طریقۂ شمار دیکھنا ضروری ہے۔
ٹیگز:
##mansehra.com
##PakistanPolitics
##KhyberPakhtunkhwa
##punjabNews
##PoliceReforms
##KhyberPakhtunkhwaPolice
##PakistanNews
##PoliceCustody
##LahoreNews
##Punjabpolice
##Accountability
##CTD
##LawEnforcementAgencies
##CCD
##PoliceEncounters
##HumanRights
##ExtrajudicialKillings
##HumanRightsCommission
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں