پاکستان
پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا نیا فارمولا منظور، ریفائنریز کے پریمیم اور اخراجات 30 روز کے لیے منجمد کرنے کا فیصلہ
01-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
25 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئل ریفائنریز کے لیے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے نیا پرائسنگ فارمولا منظور کر لیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آئل نے اس سلسلے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے، جس میں نئے پرائسنگ میکانزم اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا ہے۔
خط کے مطابق پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے درآمدی کارگو کی اصل لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر کسی وقت درآمدی کارگو کی اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو قیمت کے تعین کے لیے آخری دستیاب درآمدی کارگو کی لاگت کو بنیاد بنایا جائے گا۔
نئے فارمولے کے تحت آئل ریفائنریز کو آئندہ 30 روز تک ایران امریکا جنگ سے پہلے کی سطح پر پریمیم اور دیگر اخراجات برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی۔ ریفائنریز کے لیے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کا تعین 7 مارچ 2026 کی سطح پر پریمیم اور کسٹمز ڈیوٹی کو بنیاد بنا کر کیا جائے گا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی درآمدی قیمت اور ریفائنری قیمت کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کی رقم پیٹرولیم لیوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ لیوی اکاؤنٹس میں جمع ہونے والی یہ رقم پیٹرول پر صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق ایران امریکا جنگ کے بعد مقامی آئل ریفائنریز درآمدی پیٹرول کے برابر بھاری پریمیم وصول کر رہی تھیں۔ نئے فیصلے کے تحت 7 مارچ کی سطح پر پریمیم اور کسٹمز ڈیوٹی کو منجمد کرنے سے ریفائنریز کی پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کم ہوگی، جبکہ درآمدی پیٹرول کی قیمت نسبتاً زیادہ رہے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی ریفائنریز کو درآمدی پیٹرول کی قیمت کے برابر کرنے کے لیے دونوں قیمتوں کے درمیان فرق کی رقم لیوی اکاؤنٹس میں جمع کرانا ہوگی۔ اس طرح قیمتوں کے فرق سے حاصل ہونے والی رقم کو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی برقرار رہے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ 80 روپے فی لیٹر لیوی کی رقم صارفین کو فراہم کیے جانے والے اضافی ریلیف سے منسلک نہیں ہوگی۔
نئے پرائسنگ میکانزم کا مقصد درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والے پیٹرول کی قیمتوں کے فرق کو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت منظم کرنا اور اس فرق سے حاصل ہونے والی رقم کو صارفین کے ریلیف کے لیے استعمال کرنا ہے۔ تاہم اس نئے فارمولے کے عملی اثرات کا انحصار درآمدی قیمتوں، ریفائنریز کے اخراجات اور حکومتی پالیسی پر ہوگا۔
خط کے مطابق پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے درآمدی کارگو کی اصل لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر کسی وقت درآمدی کارگو کی اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو قیمت کے تعین کے لیے آخری دستیاب درآمدی کارگو کی لاگت کو بنیاد بنایا جائے گا۔
نئے فارمولے کے تحت آئل ریفائنریز کو آئندہ 30 روز تک ایران امریکا جنگ سے پہلے کی سطح پر پریمیم اور دیگر اخراجات برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی۔ ریفائنریز کے لیے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کا تعین 7 مارچ 2026 کی سطح پر پریمیم اور کسٹمز ڈیوٹی کو بنیاد بنا کر کیا جائے گا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی درآمدی قیمت اور ریفائنری قیمت کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کی رقم پیٹرولیم لیوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ لیوی اکاؤنٹس میں جمع ہونے والی یہ رقم پیٹرول پر صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق ایران امریکا جنگ کے بعد مقامی آئل ریفائنریز درآمدی پیٹرول کے برابر بھاری پریمیم وصول کر رہی تھیں۔ نئے فیصلے کے تحت 7 مارچ کی سطح پر پریمیم اور کسٹمز ڈیوٹی کو منجمد کرنے سے ریفائنریز کی پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت کم ہوگی، جبکہ درآمدی پیٹرول کی قیمت نسبتاً زیادہ رہے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی ریفائنریز کو درآمدی پیٹرول کی قیمت کے برابر کرنے کے لیے دونوں قیمتوں کے درمیان فرق کی رقم لیوی اکاؤنٹس میں جمع کرانا ہوگی۔ اس طرح قیمتوں کے فرق سے حاصل ہونے والی رقم کو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی برقرار رہے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ 80 روپے فی لیٹر لیوی کی رقم صارفین کو فراہم کیے جانے والے اضافی ریلیف سے منسلک نہیں ہوگی۔
نئے پرائسنگ میکانزم کا مقصد درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والے پیٹرول کی قیمتوں کے فرق کو ایک مخصوص طریقہ کار کے تحت منظم کرنا اور اس فرق سے حاصل ہونے والی رقم کو صارفین کے ریلیف کے لیے استعمال کرنا ہے۔ تاہم اس نئے فارمولے کے عملی اثرات کا انحصار درآمدی قیمتوں، ریفائنریز کے اخراجات اور حکومتی پالیسی پر ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں