شہر کی خبریں
مانسہرہ کے تاجروں سمیت 11 افراد سے 98 لاکھ روپے کا مبینہ فراڈ، مشہور نعمان گروہ کے تین ملزمان کی ضمانت ہائی کورٹ سے مسترد
05-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
35 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: سرکاری اور حساس اداروں میں ملازمت دلوانے اور سکیورٹی کے نام پر مانسہرہ کے تاجر سلطان سمیت 11 افراد سے مبینہ طور پر 98 لاکھ روپے ہتھیانے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مشہور نعمان فراڈ گروہ سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نعمان نامی شخص کے مبینہ فراڈ گروہ کے خلاف درج مقدمے میں پہلے سے گرفتار تین ملزمان ملک وقاص، ملک افنان اور ملک سعد نے رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمے کے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تینوں ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔
مقدمے کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری اور حساس اداروں میں ملازمت دلوانے اور سکیورٹی کے نام پر مانسہرہ کے تاجر سلطان سمیت 11 افراد سے مجموعی طور پر 98 لاکھ روپے وصول کیے۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ انہیں ملازمتوں کی یقین دہانیاں کروائی گئیں، تاہم نہ انہیں ملازمتیں فراہم کی گئیں اور نہ ہی ان کی رقوم واپس کی گئیں۔
اس مقدمے میں ملک وقاص کو مبینہ مرکزی کردار نعمان کا بھائی جبکہ ملک افنان کو اس کا بھتیجا بتایا جاتا ہے۔ ملک سعد بھی اسی مقدمے میں نامزد ملزمان میں شامل ہے۔ تینوں ملزمان پہلے ہی فراڈ کے مقدمے میں گرفتار ہیں۔
دوسری جانب متاثرین نے عدالت کی جانب سے ضمانتیں مسترد ہونے کے فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان سے ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس دلوائی جائے اور مبینہ فراڈ میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جائے۔
مدعی مقدمہ کی جانب سے ایڈووکیٹ مہروز جمشید خان نے مقدمے کی پیروی کی اور ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں دلائل دیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔
متاثرین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کو مزید مؤثر بنایا جائے، مبینہ فراڈ سے حاصل کی گئی رقم کی ریکوری یقینی بنائی جائے اور تمام متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق نعمان نامی شخص کے مبینہ فراڈ گروہ کے خلاف درج مقدمے میں پہلے سے گرفتار تین ملزمان ملک وقاص، ملک افنان اور ملک سعد نے رہائی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمے کے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد تینوں ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔
مقدمے کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری اور حساس اداروں میں ملازمت دلوانے اور سکیورٹی کے نام پر مانسہرہ کے تاجر سلطان سمیت 11 افراد سے مجموعی طور پر 98 لاکھ روپے وصول کیے۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ انہیں ملازمتوں کی یقین دہانیاں کروائی گئیں، تاہم نہ انہیں ملازمتیں فراہم کی گئیں اور نہ ہی ان کی رقوم واپس کی گئیں۔
اس مقدمے میں ملک وقاص کو مبینہ مرکزی کردار نعمان کا بھائی جبکہ ملک افنان کو اس کا بھتیجا بتایا جاتا ہے۔ ملک سعد بھی اسی مقدمے میں نامزد ملزمان میں شامل ہے۔ تینوں ملزمان پہلے ہی فراڈ کے مقدمے میں گرفتار ہیں۔
دوسری جانب متاثرین نے عدالت کی جانب سے ضمانتیں مسترد ہونے کے فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان سے ان کی ڈوبی ہوئی رقم واپس دلوائی جائے اور مبینہ فراڈ میں ملوث دیگر افراد کے کردار کا بھی تعین کیا جائے۔
مدعی مقدمہ کی جانب سے ایڈووکیٹ مہروز جمشید خان نے مقدمے کی پیروی کی اور ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں دلائل دیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔
متاثرین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کو مزید مؤثر بنایا جائے، مبینہ فراڈ سے حاصل کی گئی رقم کی ریکوری یقینی بنائی جائے اور تمام متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں