پاکستان
عالمی سطح پر متنازع قرار دیے جانے والے دھاتی ’کیٹ آئیز‘ پاکستان میں تاحال نصب، ٹائر پھٹنے اور حادثات کا خدشہ
30-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
26 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے زیرِ انتظام مختلف شاہراہوں پر نصب دھاتی ’کیٹ آئیز‘ شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر لگے یہ ابھار نہ صرف گاڑیوں کے ٹائروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ تیز رفتاری یا اچانک بریک لگانے کی صورت میں حادثات کا خطرہ بھی بڑھاتے ہیں۔
کیٹ آئیز دراصل سڑکوں پر نصب کیے جانے والے چھوٹے دھاتی یا پلاسٹک کے ابھار ہوتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد لین کی نشاندہی کرنا اور رات کے وقت گاڑیوں کی روشنی منعکس کرکے ڈرائیوروں کو راستہ دکھانا ہے۔ تاہم پاکستان میں بعض مقامات پر ان کا استعمال رفتار کم کرنے یا اسپیڈ بریکر کے متبادل کے طور پر کیا جا رہا ہے، جس پر شہریوں اور ٹریفک سیفٹی سے وابستہ حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ٹائروں کو نقصان اور حادثات کا خدشہ
شہریوں کے مطابق دھاتی کیٹ آئیز پر تیز رفتاری سے گاڑی گزارنے کے باعث ٹائروں کو نقصان پہنچنے، گاڑی کے توازن میں خلل آنے اور حادثات کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً پرانے یا کمزور ٹائروں والی گاڑیوں کے لیے یہ صورتحال زیادہ تشویش ناک ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے پاک ویلز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹائر پھٹنے کے 75 سے 90 فیصد واقعات کا تعلق کیٹ آئیز سے ہوتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور مستند اعدادوشمار کی ضرورت ہے۔ ایک اور رپورٹ میں ایک شہری کے دوست کے سر میں ٹوٹے ہوئے کیٹ آئیز کی کیل لگنے کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے، جو ان کی تنصیب اور دیکھ بھال کے حفاظتی پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔
کیا کیٹ آئیز اسپیڈ بریکر کا متبادل ہیں؟
روڈ سیفٹی اور انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق کیٹ آئیز کا بنیادی مقصد سڑک پر لین اور راستے کی نشاندہی کرنا ہے، نہ کہ گاڑیوں کی رفتار کم کرنا۔ اس لیے انہیں اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے رفتار کنٹرول کرنے کے لیے منظور شدہ اور محفوظ طریقے اختیار کیے جانے چاہییں۔
مختلف ممالک میں سڑکوں کی حفاظت کے لیے ربڑ کے اسپیڈ ہمپس، رمبل اسٹرپس اور دیگر منظور شدہ ٹریفک کنٹرول اقدامات استعمال کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی شاہراہ پر رفتار کم کرنے کے لیے نصب کیے جانے والے آلات کا انتخاب سڑک کے ڈیزائن، ٹریفک کی نوعیت اور حفاظتی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا ضروری ہے۔
عدالتی احکامات اور انتظامی ذمہ داری
پاکستان میں بھی دھاتی کیٹ آئیز کے استعمال کے حوالے سے قانونی اور انتظامی سطح پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق 2020 میں گجرات کی ایک عدالت نے سڑکوں سے کیٹ آئیز ہٹانے کا حکم دیا تھا، جبکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے معاملے پر متعلقہ اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔
تاہم، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیرِ انتظام شاہراہوں پر ان کی موجودگی کے حوالے سے متعلقہ احکامات اور موجودہ صورتحال کی مزید وضاحت ضروری ہے۔
NHA سے وضاحت اور شہریوں کا مطال
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے دھاتی کیٹ آئیز کو اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے کوئی واضح سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق NHA کی دستاویزات میں کیٹ آئیز کا ذکر سڑک کی نشاندہی اور لین مارکنگ کے حوالے سے کیا گیا ہے، نہ کہ رفتار کم کرنے کے آلے کے طور پر۔
شہریوں نے سوشل میڈیا پر #SayNoToCatsEyes کے ذریعے اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں پر نصب دھاتی کیٹ آئیز کے استعمال کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، غیر محفوظ تنصیبات کو ہٹایا جائے اور ان کی جگہ منظور شدہ حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں، مسافروں اور گاڑیوں کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا تکنیکی اور قانونی جائزہ لے کر شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی اختیار کریں۔
کیٹ آئیز دراصل سڑکوں پر نصب کیے جانے والے چھوٹے دھاتی یا پلاسٹک کے ابھار ہوتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد لین کی نشاندہی کرنا اور رات کے وقت گاڑیوں کی روشنی منعکس کرکے ڈرائیوروں کو راستہ دکھانا ہے۔ تاہم پاکستان میں بعض مقامات پر ان کا استعمال رفتار کم کرنے یا اسپیڈ بریکر کے متبادل کے طور پر کیا جا رہا ہے، جس پر شہریوں اور ٹریفک سیفٹی سے وابستہ حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ٹائروں کو نقصان اور حادثات کا خدشہ
شہریوں کے مطابق دھاتی کیٹ آئیز پر تیز رفتاری سے گاڑی گزارنے کے باعث ٹائروں کو نقصان پہنچنے، گاڑی کے توازن میں خلل آنے اور حادثات کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً پرانے یا کمزور ٹائروں والی گاڑیوں کے لیے یہ صورتحال زیادہ تشویش ناک ہو سکتی ہے۔
اس حوالے سے پاک ویلز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹائر پھٹنے کے 75 سے 90 فیصد واقعات کا تعلق کیٹ آئیز سے ہوتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور مستند اعدادوشمار کی ضرورت ہے۔ ایک اور رپورٹ میں ایک شہری کے دوست کے سر میں ٹوٹے ہوئے کیٹ آئیز کی کیل لگنے کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے، جو ان کی تنصیب اور دیکھ بھال کے حفاظتی پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔
کیا کیٹ آئیز اسپیڈ بریکر کا متبادل ہیں؟
روڈ سیفٹی اور انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق کیٹ آئیز کا بنیادی مقصد سڑک پر لین اور راستے کی نشاندہی کرنا ہے، نہ کہ گاڑیوں کی رفتار کم کرنا۔ اس لیے انہیں اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے رفتار کنٹرول کرنے کے لیے منظور شدہ اور محفوظ طریقے اختیار کیے جانے چاہییں۔
مختلف ممالک میں سڑکوں کی حفاظت کے لیے ربڑ کے اسپیڈ ہمپس، رمبل اسٹرپس اور دیگر منظور شدہ ٹریفک کنٹرول اقدامات استعمال کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی شاہراہ پر رفتار کم کرنے کے لیے نصب کیے جانے والے آلات کا انتخاب سڑک کے ڈیزائن، ٹریفک کی نوعیت اور حفاظتی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا ضروری ہے۔
عدالتی احکامات اور انتظامی ذمہ داری
پاکستان میں بھی دھاتی کیٹ آئیز کے استعمال کے حوالے سے قانونی اور انتظامی سطح پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق 2020 میں گجرات کی ایک عدالت نے سڑکوں سے کیٹ آئیز ہٹانے کا حکم دیا تھا، جبکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے معاملے پر متعلقہ اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔
تاہم، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیرِ انتظام شاہراہوں پر ان کی موجودگی کے حوالے سے متعلقہ احکامات اور موجودہ صورتحال کی مزید وضاحت ضروری ہے۔
NHA سے وضاحت اور شہریوں کا مطال
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے دھاتی کیٹ آئیز کو اسپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے کوئی واضح سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق NHA کی دستاویزات میں کیٹ آئیز کا ذکر سڑک کی نشاندہی اور لین مارکنگ کے حوالے سے کیا گیا ہے، نہ کہ رفتار کم کرنے کے آلے کے طور پر۔
شہریوں نے سوشل میڈیا پر #SayNoToCatsEyes کے ذریعے اس معاملے پر آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں پر نصب دھاتی کیٹ آئیز کے استعمال کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، غیر محفوظ تنصیبات کو ہٹایا جائے اور ان کی جگہ منظور شدہ حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ ڈرائیوروں، مسافروں اور گاڑیوں کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا تکنیکی اور قانونی جائزہ لے کر شہریوں کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی اختیار کریں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں