پاکستان
سہیل وڑائچ کا تجزیہ: نئے صوبوں کے قیام پر فل اسٹاپ نہیں، صرف کامہ لگا ہے، مارچ 2027 تک قانون سازی کی ڈیڈ لائن برقرار
02-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
36 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ کالم میں پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری سیاسی بحث پر اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر ابھی حتمی فل اسٹاپ نہیں لگا بلکہ یہ بحث وقتی طور پر کامے کی صورت میں رکی ہے۔ کالم کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے نئے صوبوں کی بحث ختم ہونے سے متعلق بیان کے باوجود مارچ 2027 سے قبل اس حوالے سے قانون سازی کی ڈیڈ لائن برقرار ہے۔ سہیل وڑائچ کے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے بعض تحفظات کے باوجود پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام پر اصولی رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم مجوزہ صوبوں کی تشکیل 2029 کے عام انتخابات کے بعد عمل میں لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ کالم میں پنجاب کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کو بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث اہم آپشن قرار دیا گیا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آئندہ دو سے ڈھائی سال کے دوران ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر کام کر سکتی ہیں، تاکہ ممکنہ صوبائی تقسیم کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) نئے انتظامی یونٹس میں اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھ سکے۔ دوسری جانب کالم میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام پر اصولی اعتراض نہیں، تاہم سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پارٹی کو تحفظات ہیں، جن کا اظہار بلاول بھٹو زرداری بھی کر چکے ہیں۔ ان تحفظات کے تناظر میں ایک درمیانی تجویز بھی زیر بحث بتائی گئی ہے، جس کے تحت اسلام آباد، گوادر اور کراچی کو وفاقی علاقے قرار دینے جبکہ کراچی میں سندھ کا دارالحکومت برقرار رکھنے کی تجویز شامل ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے کالم میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی جانب سے نئے صوبوں کے تصور پر اتفاق کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کو بھی اس بحث کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے حوالے سے سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ پارٹی کی پارلیمانی قیادت قانون سازی میں حمایت کے ذریعے سیاسی ریلیف حاصل کرنے کی حامی ہو سکتی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کی رضامندی کے بغیر اس پیش رفت پر عمل درآمد مشکل دکھائی دیتا ہے۔ کالم کے مطابق رواں سال کے آخری دو ماہ اور آئندہ سال کے ابتدائی تین ماہ، یعنی مجموعی طور پر پانچ ماہ، نئے صوبوں کے قیام، ملکی سیاسی مستقبل اور 2029 کے عام انتخابات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نکات سہیل وڑائچ کے کالم میں پیش کردہ تجزیے اور سیاسی امکانات پر مبنی ہیں، انہیں کسی حتمی حکومتی فیصلے یا منظور شدہ منصوبے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں