بریکنگ نیوز
مانسہرہ: غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف یکم نومبر کی ڈیڈ لائن ختم، آج سے سخت کارروائی کا امکان
02-نومبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
34 وزٹ
Read in English
مانسہرہ: پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی یکم نومبر کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مانسہرہ میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایات اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی پالیسی کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ یکم نومبر کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی، گرفتاری اور ملک بدری کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں قیام کے لیے درست ویزا یا دیگر قانونی دستاویزات نہیں رکھتے۔
مانسہرہ کے مقامی ذرائع کے مطابق ضلع کی مختلف یونین کونسلز، جن میں شیخ آباد، بریڑی، کالگان، اچھڑیاں، لبرکوٹ، خاکی اور ان کے گردونواح کے علاقے شامل ہیں، میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے کارروائی متوقع ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ممکنہ آپریشن کے دوران رہائشی مقامات اور کاروباری مراکز کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جبکہ قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ بعض مقامات پر کاروباری مراکز سیل کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال متعلقہ حکام کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں یکم نومبر سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی اور واپسی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے لیے انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کیا گیا ہے۔ <Cite refs={["turn882164search2","turn882164search3"]}/>
حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے معاملات میں فرق رکھا جائے گا۔ اس لیے کسی بھی کارروائی کے دوران متعلقہ افراد کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ پڑتال قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
شہری حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کارروائی کے دوران قانون کی مکمل پاسداری، درست شناخت اور دستاویزات کی تصدیق کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی قانونی طور پر مقیم شخص یا خاندان کو بلاجواز پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایات اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی پالیسی کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ یکم نومبر کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی، گرفتاری اور ملک بدری کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو پاکستان میں قیام کے لیے درست ویزا یا دیگر قانونی دستاویزات نہیں رکھتے۔
مانسہرہ کے مقامی ذرائع کے مطابق ضلع کی مختلف یونین کونسلز، جن میں شیخ آباد، بریڑی، کالگان، اچھڑیاں، لبرکوٹ، خاکی اور ان کے گردونواح کے علاقے شامل ہیں، میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے کارروائی متوقع ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ممکنہ آپریشن کے دوران رہائشی مقامات اور کاروباری مراکز کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جبکہ قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ بعض مقامات پر کاروباری مراکز سیل کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال متعلقہ حکام کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں یکم نومبر سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی اور واپسی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے لیے انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کیا گیا ہے۔ <Cite refs={["turn882164search2","turn882164search3"]}/>
حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے معاملات میں فرق رکھا جائے گا۔ اس لیے کسی بھی کارروائی کے دوران متعلقہ افراد کی شناخت اور دستاویزات کی جانچ پڑتال قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
شہری حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کارروائی کے دوران قانون کی مکمل پاسداری، درست شناخت اور دستاویزات کی تصدیق کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی قانونی طور پر مقیم شخص یا خاندان کو بلاجواز پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں