پاکستان
پشاور میں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول میں مبینہ فراڈ، ایف آئی اے نے 4 افغان باشندے گرفتار کر لیے
30-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
29 وزٹ
Read in English
پشاور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پشاور زون نے پاکستانی قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے غیر قانونی حصول کے مبینہ فراڈ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چار افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد کے قبضے سے ان کی تصاویر والے پاکستانی قومی شناختی کارڈز کی نقول بھی برآمد کی گئی ہیں، جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران ایک مبینہ ایجنٹ کے ذریعے شناختی دستاویزات حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے پشاور زون کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بعض افغان باشندے مبینہ طور پر ایجنٹوں کی مدد سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اسپن غر ہاسٹل، شاہین ٹاؤن پشاور میں مقیم ہیں۔
موصولہ اطلاع کی بنیاد پر ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) پشاور کی ٹیم نے مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا اور کارروائی کے دوران چار افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت صدیق اللہ، رحمت اللہ، عبداللہ اور ناصر کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے پاکستانی قومی شناختی کارڈز کی نقول برآمد ہوئیں، جن پر گرفتار افراد کی تصاویر موجود تھیں۔ ایف آئی اے نے برآمد شدہ دستاویزات کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار افراد نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ انہوں نے طلعت عرف پیر نامی شخص کی مدد سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کارروائی کے وقت پاکستانی ویزا بھی پیش نہیں کر سکے، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور میں گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 208/2026 درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 کے علاوہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 بھی شامل کی گئی ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مبینہ طور پر شناختی دستاویزات کے حصول میں معاونت کرنے والے ایجنٹ کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
ایف آئی اے پشاور زون کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بعض افغان باشندے مبینہ طور پر ایجنٹوں کی مدد سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ غیر قانونی طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اسپن غر ہاسٹل، شاہین ٹاؤن پشاور میں مقیم ہیں۔
موصولہ اطلاع کی بنیاد پر ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) پشاور کی ٹیم نے مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا اور کارروائی کے دوران چار افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت صدیق اللہ، رحمت اللہ، عبداللہ اور ناصر کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے پاکستانی قومی شناختی کارڈز کی نقول برآمد ہوئیں، جن پر گرفتار افراد کی تصاویر موجود تھیں۔ ایف آئی اے نے برآمد شدہ دستاویزات کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار افراد نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ انہوں نے طلعت عرف پیر نامی شخص کی مدد سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کارروائی کے وقت پاکستانی ویزا بھی پیش نہیں کر سکے، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور میں گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 208/2026 درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 کے علاوہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 بھی شامل کی گئی ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مبینہ طور پر شناختی دستاویزات کے حصول میں معاونت کرنے والے ایجنٹ کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں