کالمز
گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ: حکمتِ عملی کا شاہکار یا معاشی حقیقت سے دوری؟
31-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
6 وزٹ
Read in English
تحریر: قاضی جواد
پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں تعمیر ہونے والا نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بلاشبہ ملک کے بڑے اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شامل ہے۔ جدید سہولیات، تقریباً 4,300 ایکڑ پر پھیلا ہوا رقبہ، 3.5 کلومیٹر طویل رن وے اور بڑے طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت اسے مستقبل کے ایک اہم فضائی مرکز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی اصل کامیابی کا تعین اس کی عمارتوں، رن وے یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اس کے عملی استعمال اور معاشی افادیت سے ہوگا۔
گوادر ایئرپورٹ کو سالانہ تقریباً چار لاکھ مسافروں کی آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے اکتوبر 2024 میں مکمل کیا گیا، جبکہ جنوری 2025 میں اس کے کمرشل آپریشنز کا آغاز ہوا۔ اس کے باوجود پروازوں کی محدود تعداد ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا گوادر فی الحال اتنی معاشی اور تجارتی سرگرمی رکھتا ہے جو اس بڑے فضائی منصوبے کو مکمل طور پر فعال بنا سکے؟ اگر پروازیں محدود رہیں اور مسافروں کی تعداد مطلوبہ سطح تک نہ پہنچے تو جدید ترین ایئرپورٹ بھی اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
گوادر کو دبئی جیسے عالمی فضائی مرکز سے تشبیہ دینا بھی زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی مناسب ہوگا۔ دبئی کی فضائی ترقی کے پیچھے بین الاقوامی تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں اور عالمی فضائی رابطوں کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔ اس کے برعکس گوادر کی مستقل آبادی، مقامی معاشی سرگرمیاں اور فضائی سفر کی طلب ابھی محدود ہیں۔ کسی بھی ایئرپورٹ کو عالمی ٹرانزٹ ہب بنانے کے لیے صرف وسیع رن وے کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے مضبوط معاشی بنیاد، مسلسل مسافر ٹریفک، کارگو نیٹ ورک اور بین الاقوامی ایئرلائنز کی دلچسپی بھی درکار ہوتی ہے۔
اس منصوبے کے سامنے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ سرمایہ کاروں، سیاحوں اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے اعتماد کے لیے پُرامن ماحول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح گوادر شہر، بندرگاہ اور ایئرپورٹ کے درمیان مؤثر زمینی رابطے، تجارتی سرگرمیوں اور صنعتی ترقی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایئرپورٹ کے گرد معاشی سرگرمیاں فروغ نہیں پاتیں تو اس کی عملی افادیت محدود رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ گوادر ایئرپورٹ کو صرف فوری منافع یا موجودہ مسافروں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور گوادر کی طویل مدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں بندرگاہ، صنعت، تجارت اور علاقائی رابطوں کی ترقی اس ایئرپورٹ کی اہمیت میں اضافہ کرے۔ تاہم، مستقبل کے امکانات کو موجودہ معاشی حقائق کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گوادر ایئرپورٹ کو فعال بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کرے۔ فضائی رابطوں میں اضافہ، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع، سیاحت کا فروغ، صنعتی سرمایہ کاری، بندرگاہ اور ایئرپورٹ کے درمیان بہتر رابطے اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی عوامل ہیں۔
گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایک بڑا قومی منصوبہ ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ اس کی تعمیر نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمی، روزگار، تجارت اور عوامی سہولت ہوگی۔ سوال یہ نہیں کہ گوادر ایئرپورٹ کتنا بڑا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے ملک کی معیشت کے لیے کتنا مؤثر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں تعمیر ہونے والا نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بلاشبہ ملک کے بڑے اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شامل ہے۔ جدید سہولیات، تقریباً 4,300 ایکڑ پر پھیلا ہوا رقبہ، 3.5 کلومیٹر طویل رن وے اور بڑے طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت اسے مستقبل کے ایک اہم فضائی مرکز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس منصوبے کی اصل کامیابی کا تعین اس کی عمارتوں، رن وے یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اس کے عملی استعمال اور معاشی افادیت سے ہوگا۔
گوادر ایئرپورٹ کو سالانہ تقریباً چار لاکھ مسافروں کی آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسے اکتوبر 2024 میں مکمل کیا گیا، جبکہ جنوری 2025 میں اس کے کمرشل آپریشنز کا آغاز ہوا۔ اس کے باوجود پروازوں کی محدود تعداد ایک اہم سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا گوادر فی الحال اتنی معاشی اور تجارتی سرگرمی رکھتا ہے جو اس بڑے فضائی منصوبے کو مکمل طور پر فعال بنا سکے؟ اگر پروازیں محدود رہیں اور مسافروں کی تعداد مطلوبہ سطح تک نہ پہنچے تو جدید ترین ایئرپورٹ بھی اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔
گوادر کو دبئی جیسے عالمی فضائی مرکز سے تشبیہ دینا بھی زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی مناسب ہوگا۔ دبئی کی فضائی ترقی کے پیچھے بین الاقوامی تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں اور عالمی فضائی رابطوں کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔ اس کے برعکس گوادر کی مستقل آبادی، مقامی معاشی سرگرمیاں اور فضائی سفر کی طلب ابھی محدود ہیں۔ کسی بھی ایئرپورٹ کو عالمی ٹرانزٹ ہب بنانے کے لیے صرف وسیع رن وے کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے مضبوط معاشی بنیاد، مسلسل مسافر ٹریفک، کارگو نیٹ ورک اور بین الاقوامی ایئرلائنز کی دلچسپی بھی درکار ہوتی ہے۔
اس منصوبے کے سامنے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ سرمایہ کاروں، سیاحوں اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے اعتماد کے لیے پُرامن ماحول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح گوادر شہر، بندرگاہ اور ایئرپورٹ کے درمیان مؤثر زمینی رابطے، تجارتی سرگرمیوں اور صنعتی ترقی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایئرپورٹ کے گرد معاشی سرگرمیاں فروغ نہیں پاتیں تو اس کی عملی افادیت محدود رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ گوادر ایئرپورٹ کو صرف فوری منافع یا موجودہ مسافروں کی تعداد کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور گوادر کی طویل مدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں بندرگاہ، صنعت، تجارت اور علاقائی رابطوں کی ترقی اس ایئرپورٹ کی اہمیت میں اضافہ کرے۔ تاہم، مستقبل کے امکانات کو موجودہ معاشی حقائق کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گوادر ایئرپورٹ کو فعال بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کرے۔ فضائی رابطوں میں اضافہ، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع، سیاحت کا فروغ، صنعتی سرمایہ کاری، بندرگاہ اور ایئرپورٹ کے درمیان بہتر رابطے اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی عوامل ہیں۔
گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایک بڑا قومی منصوبہ ہے، لیکن اس کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ اس کی تعمیر نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمی، روزگار، تجارت اور عوامی سہولت ہوگی۔ سوال یہ نہیں کہ گوادر ایئرپورٹ کتنا بڑا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اسے ملک کی معیشت کے لیے کتنا مؤثر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں